Al-Risala · January 1986 · page 20

کالی آگ

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۶، صفحہ ۲۰

کالی آگ

عن ابی ھریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم ابو ھریرۃ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ قال أوقد علی النار الف سنۃ حتی احمرت ۔ وسلم نے فرمایا : جہنم کی آگ کو ہزار سال تک دہکایا ثم أوقد علیھا الف سنۃ حتی ابیضت گیا تو وہ لال ہوگئی ۔ اس کے بعد پھر اس کو ہزار سال ثم اوقد علیھا الف سنۃ حتى اسودت تک دہکایا گیا تو وہ سفید ہوگئی۔ پھر اس کو ہزار تھی سوداء مظلمۃ سال تک دھکایا گیا تو وہ کالی ہوگئی۔ اب وہ (الترمذی) گہری کالی ہے۔

جہنم کی آگ حقیقت کیا ہے اور کس طرح بھڑکتے بھڑکتے کالی ہوگئی ہے اس کا علم صرف اللہ کو ہے۔ مگر آگ کا کالا ہو جانا آج کے انسان کے لیے نا قابل فہم نہیں رہا۔ آج کے علم الافلاک نے بتایا ہے کہ کائنات میں آگ کی ایسی دنیائیں ہیں جو اپنی شدت کے آخری مرحلے میں پہنچ کر کالی ہو گئی ہیں ’’کالی آگ‘‘ آج کے انسان کے لیے ایک معلوم چیز ہے اور اس کو جدید اصطلاح میں کالا غار (Black hole) کہا جاتا ہے۔ فلکیاتی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ بہت بعید فاصلوں پر کائنات میں انتہائی بڑے بڑے ستارے (آگ کے گولے) ہیں۔ وہ اتنے بڑے ہیں کہ کہکشاں کے مقابلہ میں سو گنا زیادہ انرجی خارج کرتے ہیں جب کہ ایک کہکشاں میں کھرب ہا کھرب ستارے ہوتے ہیں۔ ابتدائی یہ ستارے اسی طرح ’’روشن‘‘ دکھائی دیتے تھے جیسے دوسرے ستارے۔ نظریہ یہ ہے کہ اپنی بڑھی ہوئی قوتِ کشش کی وجہ سے ان ستاروں نے اپنے مادہ کو اندر کی طرف کھینچنا شروع کیا۔ اس کے نتیجہ میں ستارہ سکڑتا گیا اور جتنا سکڑتا گیا اتنا ہی اس کی قوت اور زیادہ بڑھتی چلی گئی۔ یہاں تک کہ اس کی قوت اتنی زیادہ بڑھ گئی کہ روشنی بھی اس سے خارج نہیں ہو سکتی تھی۔ اس طرح انتہائی روشن ہونے کے باوجود اب وہ ہماری نظر کے لیے بالکل تاریک ہو گیا ہے۔ کیوں کہ آدمی اپنی موجودہ آنکھوں سے کسی ایسی ہی چیز کو دیکھ سکتا ہے جس کی روشنی اس کی آنکھوں تک پہنچ رہی ہو۔

غیبی چیزوں کا حقیقی علم انسان کو صرف اگلی دنیا میں ہو سکے گا۔ مگر اللہ تعالی نے موجودہ دنیا میں بھی ایسی چیزیں رکھ دی ہیں جو غیبی حقیقتوں کو ہمارے لیے قابل فہم بنا سکیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1986 All issues

Printed page