Al-Risala · January 1986 · page 21

صحابی کی مثال

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۶، صفحہ ۲۱

صحابی کی مثال

اخر ج ابو نعيم فى الحلية عن ثابت البناني قال : خطب يزيد بن معاوية الى ابی الدرداء رضی اللہ عنہ ابنتہ الدرداء - فردہ - فقال رجل من جلساء يزيد اصلحك الله تأذن لي أن أتزوجها - قال اغرب ويلك - قال فاذن لي اصلحك الله ۔ قال نعم - فقال فخطبها فانكحها أبو الدرداء الرجل - قال فسار ذلك في الناس ان يزيد خطب الى ابی الدرداء فردہ ۔ وخطب اليه رجل من ضعفاء المسلمين فانكحه ۔ قال فقال ابو الدرداء ، اني نظرت للدرداء ، ما ظنكم بالدرداء اذا قامت على رأسها الخصيان ونظرت في بيوت يلتمع فيها بصرها ، أين دينها منها يومئذ ابونُعیم نے حلیۃ الاولیاء میں ثابت بنانی سے نقل کیا ہے کہ یزید بن معاویہ نے ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کے یہاں ان کی لڑکی دردار کے لیے نکاح کا پیغام بھیجا۔ حضرت ابو الدرداء نے اس کو رد کر دیا اس وقت یزید کے یہاں بیٹھنے والوں میں سے ایک شخص نے کہا کہ اللہ تمہارا بھلا کرے ، تم مجھے اجازت دو کہ میں اس سے نکاح کر لوں۔ یزید نے کہا۔ دور ہو ، تمہارا ناس ہو جائے ۔ اس آدمی نے دوبارہ کہا کہ مجھے اجازت دو ، اللہ تمہارا بھلا کرے ۔ یزید نے کہا بہت اچھا۔ راوی کہتے ہیں کہ اس آدمی نے پیغام دیا تو حضرت ابو الدرداء نے اس سے اپنی لڑکی کا نکاح کر دیا۔ راوی کہتے ہیں کہ لوگوں میں اس بات کا چرچا ہوا کہ یزید نے ابو الدرداء کو پیغام دیا تو انھوں نے رد کر دیا اور کمزور مسلمانوں میں سے ایک شخص نے پیغام دیا تو انھوں نے اس سے نکاح کر دیا۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابو الدرداء نے یہ سن کر کہا: میں نے اس معاملہ میں در دار کا لحاظ کیا۔ دردار کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے ، جب اس کے سرہانے خصی غلام کھڑے ہوتے اور وہ ایسے گھروں کو دیکھتی جس میں اس کی آنکھیں چکا چوند ہو جاتیں، اس میں اس وقت اس کا دین کہاں رہ جاتا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی کا یہ واقعہ بتاتا ہے کہ مومن کو اپنی اولاد کے معاملہ میں کیسا ہونا چاہیے ۔ مومن کو چاہیے کہ وہ سب سے زیادہ اپنی اولاد کے دین و ایمان کی حفاظت کرے ۔ وہ ان کے دنیا کے مستقبل سے زیادہ ان کے آخرت کے مستقبل کے لیے فکر مند ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1986 All issues

Printed page