Al-Risala · May 1986 · page 14

شرعی قانون کی حکمت

الرسالہ، مئی ۱۹۸۶، صفحہ ۱۴

دیہاتی آیا، سلام کے بعد آپ نے اس سے مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھایا تو اس نے معذرت کی اور کہا کہ میرا ہاتھ موٹا کام کرنے کی وجہ سے سخت و درشت ہو گیا ہے۔ آپ نے بڑھ کر اس کے ہاتھ کو چوم لیا اور فرمایا جو ہاتھ محنت کی کمائی سے سخت ہو جائے، اس ہاتھ کو اللہ اور رسول بہت پسند کرتے ہیں۔ قرآن میں جہاں چور کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا گیا ہے وہاں اس کا مقصد' ’’نکال‘‘ بتایا گیا ہے ۔ یعنی عبرت ۔ اس سے واضح ہے کہ اس سخت سزا کا اصل مقصد عبرت یا سبق ہے ۔ یعنی لوگوں کو جرم سے روکنا سماج کے اندر سے مجرمانہ ذہنیت کو ختم کرنا۔

جرم کی سزا کے بارہ میں اسلام کا یہ اصول بہ ظاہر سخت معلوم ہوتا ہے ۔ مگر نتیجہ کے اعتبار سے دیکھیے تو وہ انسانی معاشرہ کے حق میں بہت بڑی رحمت ہے ۔ اس اصول کے تحت صرف وہی افراد سزا پاتے ہیں جو واقعی مجرم ہیں جب کہ مجرمین کو سخت سزا نہ دینے کی صورت میں مجرمین کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور اس کی قیمت معاشرہ کو یہ دینی پڑتی ہے کہ اس کے اچھے افراد وہ سزا پانے لگتے ہیں جو سزا صرف برے افراد کو ملنی چاہیے ۔

مجرمین اچھے اور برے لوگوں میں فرق نہیں کرتے ، وہ صرف اپنی خواہش اور اپنے مفاد کو دیکھتے ہیں ۔ چنانچہ اکثر وہ سماج کے نہایت قیمتی افراد کو مار ڈالتے ہیں یا ان کے ہاتھ پاؤں توڑ کر انہیں اپاہج بنا دیتے ہیں۔ یہ صورت حال ایسے ہر سماج میں جاری رہتی ہے جہاں مجرمین کو سخت سزا کا اندیشہ نہ ہو۔

اسلام سماج کے برے افراد کو سخت سزا دیتا ہے تاکہ سماج کے اچھے افراد بچ جائیں۔ اس کے برعکس دوسرے سماجوں میں برے افراد کو ہلکی سزا دی جاتی ہے یا انھیں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ سماج کے اچھے افراد کو اپنا شکار بناتے ہیں۔

برے افراد کے لیے نرم قانون بنانا قانون سازی کی نفی ہے ۔ کیوں کہ قانون کا مقصد جرم کو ختم کرنا ہے اور نرم قانون سازی سے وہ اور زیادہ بڑھ جاتا ہے۔

خوف واحد چیز ہے جو کسی مجرم کو جرم سے روکنے کا سبب بنتا ہے۔ اگر قانونی نظام سے خوف کا عنصر نکال دیا جائے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ مجرم جرم کے لیے دلیر ہو جائے گا۔ اسلامی قانون مجرم کی حوصلہ شکنی کرتا ہے اور وضعی قانون مجرم کی حوصلہ افزائی۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1986 All issues

Printed page