اس کے باوجود
الرسالہ، مئی ۱۹۸۶، صفحہ ۱۵
اس کے باوجود
قرآن میں اہلِ ایمان کی صفت یہ بتائی گئی ہے کہ جب انہیں غصہ آتا ہے تو وہ معاف کر دیتے ہیں ۔ ( واذا ما غضبوا هم يغفرون) یہ ایک معلوم بات ہے کہ ایک آدمی کو جب کسی شخص کے اوپر غصہ آئے تو اس کے نفس کے اندر زبردست ہیجان پیدا ہو جاتا ہے ۔ ایسی حالت میں معاف کرنا اسی وقت ممکن ہے جب کہ آدمی اپنے جذبات کو دبائے ۔ اس حقیقت کو شامل کر کے دیکھا جائے تو مذکورہ قرآنی آیت کا پور ا مطلب یہ ہوگا کہ ۔ وہ غصہ کے وقت لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں خواہ اس کے لیے انہیں اپنے جذبات کو دبانا پڑے اور اپنے نفس کو کچلنے کی نوبت آجائے ۔
اسی طرح جب بھی کوئی بات کہی جائے یا کوئی حکم دیا جائے تو اس میں کچھ الفاظ مذکور ہوتے ہیں اور کچھ الفاظ غیر مذکور ۔ دین میں غور و فکر کا حکم اسی لیے دیا گیا ہے کہ آدمی حکم کی گہرائی کو جاننے کی کوشش کرے وہ مذکور سے گزر کر غیر مذکور تک پہنچ جائے ۔
جب یہ کہا جائے کہ سچ بولو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ سچ بولنے میں نقصان نظر آتا ہو تب بھی سچ بولو ۔ یہ کہا جائے کہ امانت کو ادا کرو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ امانت کو ادا کرنا تم پر شاق ہو تب بھی تم امانت کو ادا کرو ۔ یہ کہا جائے کہ لوگوں کے ساتھ انصاف کرو ۔ تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ انصاف کرنا تمہاری خواہش کے خلاف ہو تب بھی تم انصاف کرو ۔
جب یہ کہا جائے کہ روزہ میں نہ کھاؤ تو اس جملہ میں یہ بات اپنے آپ شامل رہتی ہے کہ بھوک کے باوجود نہ کھاؤ ۔ یہی پوری شریعت کا معاملہ ہے ۔ شریعت کے ہر حکم پر عمل کرنے کے لیے آدمی کو اسی قسم کی قربانی دینی پڑتی ہے ۔
انفاق کے حکم کا مطلب یہ ہے کہ مال کی محبت کے باوجود انفاق کرو ۔ دعوت پہنچانے کے حکم کا مطلب یہ ہے کہ مدعو کی طرف سے ایذارسانی کے باوجود اسے دعوت پہنچا ؤ ۔ حق کا اعتراف کرنے کے حکم کا مطلب یہ ہے کہ ذاتی بڑائی ٹوٹنے کے باوجود حق کا اعتراف کرو ۔
اسی طرح ہر حکم میں مذکور الفاظ کے ساتھ کچھ غیر مذکور الفاظ ہوتے ہیں ۔ آدمی پر لازم ہے کہ وہ ان غیر مذکور الفاظ کو پڑھے ۔ جو شخص ایسا نہ کرے وہ کسی بھی حکم پر صحیح عمل نہیں کر سکتا ۔