امتحان کے لیے
الرسالہ، مئی ۱۹۸۶، صفحہ ۲۱
امتحان کے لیے
امتحان ہال میں طالب علم کو بہت سی چیزیں ملی ہوئی ہوتی ہیں —— بلڈنگ ، میز ، کرسی ، ملازم کاغذ اور بہت سی دوسری چیزیں ۔ وہ بلا روک ٹوک ان چیزوں کا استعمال کرتا ہے ۔ وہ آزادانہ طور پر ان کے درمیان اپنی نشست پر بیٹھتا ہے ۔
بلڈنگ اس کو سردی اور گرمی سے بچاتی ہے ۔ میز اور کرسی اس کو آرام کے ساتھ بیٹھنے کی جگہ فراہم کرتے ہیں ۔ کاغذ اور دوسرے سامان اس کو موقع دیتے ہیں کہ وہ جس طرح چاہے ان کو استعمال کرے اور جو چاہے کاغذ کے صفحہ پر مرتسم کرے ۔
مگر یہ سب کچھ جو طالب علم کو ملتا ہے وہ امتحان کے طفیل میں ملتا ہے ۔ وہ صرف اس وقت تک کے لیے اس کا ہے جب تک امتحان کی مدت پوری نہ ہو جائے ۔ جیسے ہی امتحان کی مدت ختم ہوتی ہے اس سے وہ سب کچھ چھین لیا جاتا ہے جو اس کو اب تک بے روک ٹوک ملا ہوا تھا ، جو دیکھنے والوں کو اس کا ذاتی اثاثہ دکھائی دے رہا تھا ۔
ایسا ہی کچھ معاملہ موجودہ دنیا میں انسان کا ہے ۔ یہاں آدمی کو بظاہر بہت سی چیزیں ملی ہوئی ہیں ۔ وہ سمجھتا ہے کہ وہ آزاد ہے کہ جس طرح چاہے یہاں رہے اور جس طرح چاہے اپنی ملی ہوئی چیزوں کو استعمال کرے ۔
مگر یہاں جو کچھ انسان کے پاس ہے وہ سب امتحان کے طفیل میں ہے ۔ خدا موجودہ دنیا میں آدمی کا امتحان لے رہا ہے ۔ اور اس امتحان کے تقاضے کے تحت وہ بہت سی ضروری چیزیں انسان کو دے دیتا ہے ۔ مگر یہ آدمی کے پاس صرف اس وقت تک ہے جب تک امتحان کی مدت ختم نہ ہو جائے ۔ امتحان کی مدت ختم ہوتے ہی اچانک اس سے سب کچھ چھن جائے گا ۔ وہ آدمی جو آج بظاہر سب کچھ پائے ہوئے ہے وہ اس وقت بالکل بے کچھ ہو جائے گا ۔ اس دن وہ اس مسافر کی طرح ہوگا جس کو اچانک لق و دق صحرا میں ڈال دیا جائے ۔ وہ اس انسان کی طرح ہوگا جس کو لمتناہی خلا میں بالکل بے سہارا چھوڑ دیا جائے ۔
موجودہ حالت اور اگلی حالت کے درمیان صرف موت کی غیر مرئی دیوار حائل ہے ۔