Al-Risala · May 1986 · page 22

خود ساختہ اسلام

الرسالہ، مئی ۱۹۸۶، صفحہ ۲۲

خود ساختہ اسلام

ایک نوجوان طالب علم کے ساتھی نے طالب علم کا تعارف کراتے ہوئے کہا " ان کو طلبہ کی اسلامی تحریک سے بہت دل چسپی ہے۔ وہ طلبہ کی اسلامی سرگرمیوں میں کافی حصہ لیتے ہیں اور آج کل مسلم طلبہ کے ایک تنظیم کے سیکریٹری بھی ہیں۔ اس وقت وہ پانچ ضلع کو کور (Cover) کر رہے ہیں "۔

یہ لیڈروں کی ایک نئی قسم ہے جو مسلمانوں کے درمیان بہت بڑے پیمانے پر پیدا ہو گئی ہے۔ مسلمانوں میں آج کل بے شمار ایسے لیڈر ملیں گے جن میں سے کوئی پانچ ضلع کو کور کر رہا ہو گا کوئی پانچ ریاست کو، کوئی پانچ ملک کو کور کر رہا ہو گا کوئی پانچ براعظم کو، حتیٰ کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی خوش قسمتی اس حد کو پہونچی ہے کہ انھوں نے اپنے لیے ایسے لیڈر پا لیے ہیں جو ساری کائنات کو کور کر رہے ہوں ! ہے حقیقت اس کے دیں کی احتساب کائنات مسلمانوں کے درمیان آج کل لیڈروں کی اتنی کثرت ہے کہ جتنے مسلمان ہیں شاید اتنے ہی ان کے درمیان لیڈر بھی ہوں۔ مگر یہ لیڈر سب کے سب وہ ہیں جو " دوسروں " کو کور کر رہے ہیں۔ ان میں کوئی بھی ایسا لیڈر نظر نہیں آتا جو خود اپنے آپ کو کور کر رہا ہو ۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں احتساب غیر کی دھوم ہے مگر احتساب خویش ان کے اندر اتناتمیاب ہے کہ ڈھونڈنے سے بھی کہیں نظر نہیں آتا۔ یہ اسلام جس کی آج کل کے مسلمانوں میں دھوم ہے بلاشبہ وہ اسلام نہیں جس کی تعلیم خدا اور رسول نے دی ہے۔ یہ مسلمانوں کا اپنا بنایا ہوا اسلام ہے جس کا قرآن وحدیث سے کوئی تعلق نہیں ۔ قرآن وحدیث کے مطابق حقیقی مومن وہ ہے جو اپنے آپ کو کور کرے۔ مومن اللہ سے ڈرنے والا ہوتا ہے وہ جہنم کے اندیشہ سے کانپ رہا ہوتا ہے۔ یہی ایمان کی اصل ہے۔

ایسا ایمان کسی کے اندر پیدا ہو جائے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کی ساری توجہ اپنے آپ پر لگ جاتی ہے۔ اپنے آپ کو حق پر کھڑا کرنا اس کا سب سے بڑا مسئلہ بن جاتا ہے۔ اور جو لوگ اپنے آپ کو حق پر کھڑا کرنے والے ہوں وہی اپنے باہر بھی حق کو کھڑا کرتے ہیں۔ اس کے بر عکس جو لوگ صرف یہ جانتے ہوں کہ انھیں دوسروں کے خلاف حق کا جھنڈا لے کر کھڑا ہونا ہے وہ صرف دنیا کے فساد میں اضافہ کریں گے وہ دنیا کی تعمیر کرنے والے نہیں بن سکتے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1986 All issues

Printed page