Al-Risala · May 1986 · page 23

فکری انقلاب

الرسالہ، مئی ۱۹۸۶، صفحہ ۲۳

فکری انقلاب

عن محمد بن جبیر بن مطعم عن ابیه محمد بن جبیر بن مطعم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں قال سمعت النبی صلی الله علیه وسلم یقرأ کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ وہ نماز فی المغرب بالطور۔ فلما بلغ هذه الآیة مغرب میں سورہ طور پڑھ رہے تھے۔ جب آپ اس ام خلقوا غیر شیئ ام هم الخالقون آیت تک پہنچے کیا وہ خالق کے بغیر پیدا ہوگئے ام خلقوا السماوات والارض بل لایوقنون ہیں یا وہ خود ہی خالق ہیں۔ کیا انھوں نے آسمان اور ام عندهم خزائن ربك ام هم زمین کو پیدا کیا ہے۔ بلکہ وہ یقین نہیں رکھتے۔ کیا المیصطرون ) کا دقلبی ان یطیر (بخاری ومسلم) ان کے پاس خدا کی رحمت کے خزانے ہیں یا وہی اس اس پر داروغہ ہیں) جب میں نے اس کو سنا تو قریب تھا کہ میرا دل اڑ جائے ۔

حضرت جبیر بن مطعم من بدر کی جنگ تک اسلام نہیں لائے تھے ۔ وہ بدر کے واقعہ کے بعد اپنے قیدیوں کو چھڑانے کے لیے مکہ سے مدینہ آئے۔ اس وقت وہ مشرک تھے۔ مدینہ کے زمانہ قیام میں ان پر یہ تجربہ گزرا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز کی امامت کر رہے تھے۔ آپ نے نماز میں سورہ طور پڑھی ۔ جبیر بن مطعم کے کان میں آواز آئی تو وہ اس کو سننے لگے۔ جب آپ اس کو پڑھتے ہوئے مذکورہ آیتوں تک پہونچے تو اس نے ان کے شعور کو اس طرح جھنجھوڑاکہ ان کے اندر ایک ہلچل پیدا ہوگئی ۔ ان کا دل ان کے سینہ میں اڑنے لگا۔

جبیر بن مطعم اس وقت مشرک تھے۔ مگر اب ان کا ذہن توحید کی طرف مڑگیا۔ وہ اپنا محاسبہ کرنے لگے اور شرک و توحید کے فرق پر غور کرتے رہے۔ یہاں تک کہ حق ان پر واضح ہو گیا ۔ انھوں نے شرک کو چھوڑ کر توحید کو اپنا دین بنا لیا ۔ اصحاب رسول سب اسی قسم کے لوگ تھے ۔ وہ شعوری انقلاب کے ذریعہ اسلام میں آئے تھے۔ بعد کو ایسے لوگ اسلام کے حامل بنے جن کو پیدائشی اتفاق نے مسلمان بنا دیا تھا۔ اور ظاہر ہے کہ پیدائشی اتفاق وہ کردار پیدا نہیں کر سکتا جو فکری انقلاب کے ذریعہ پیدا ہوتا ہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1986 All issues

Printed page