تاریخ ساز عمل
الرسالہ، مئی ۱۹۸۶، صفحہ ۲۴
تاریخ ساز عمل
ہجرت کے بعد مخالفین کی جارحیت کی بنا پر جنگوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ایک کے بعد ایک جنگیں ہو رہی تھیں مگر فیصلہ نہیں ہو رہا تھا۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ۶ھ میں مخالفین سے یک طرفہ شرائط پر صلح کر لی۔ اسی صلح سے فتح کا دروازہ کھلا۔ چنانچہ حضرت ابوبکر صدیق نے فرمایا: فتح حدیبیہ سے بڑی کوئی فتح اسلام میں نہیں ہوئی (ماکان فتح اعظم فی الاسلام من فتح الحديبية) مگر صلح حدیبیہ پر راضی ہونا انتہائی مشکل معاملہ تھا۔ کیوں کہ یہ ایک ایسی صلح تھی جو دشمنوں کی اپنی شرائط پر کی گئی تھی ۔ چنانچہ ایک حضرت ابو بکر کو چھوڑ کر تمام کے تمام صحابہ اس کے مخالف ہو گئے حضرت عمرفاروقؓ نے بعد کے زمانہ میں ایک شخص سے کہا :
لقد صالح رسول الله صلى الله عليه وسلم رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ والوں سے صلح اهل مكة على صلح راعطاهم شيئاً لوان نبی کی اور ان کو کچھ چیزیں دیدیں۔ اگر رسول اللہ الله صلى الله عليه وسلم أمر على أمييراً صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اوپر کسی کو امیر بنایا ہوتا فصنع الذى صنع نبي الله ما سمعت ولا اور وہ امیر وہ کرتا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اطعت وكان الذى جعل لهم أن من کیا تو میں نہ سنتا اور نہ مانتا۔ اور رسول اللہ صلی لحق من الكفار بالمسلمين ردوه ومن اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے جو کچھ مقرر کیا اس لحق بالكفار لم يردوه میں سے یہ تھا کہ کافروں میں سے جو شخص مسلمانوں (كنز العمال) سے مل جائے تو مسلمان اس کو لوٹا دیں گے اور مسلمانوں میں سے جو شخص کافروں کو ملے تو کافر اس کو نہیں لوٹائیں گے۔
دور اول کے مسلمانوں نے تاریخ کی سب سے بڑی کامیابی حاصل کی۔ مگر اس سب سے بڑی کامیابی تک پہنچنے کا راز اس ناقابل برداشت کو برداشت کرنا تھا کہ ۔ اپنی جو چیز دشمنوں کے قبضہ میں چلی جائے اس کو واپس لینے پر اصرار نہ کریں۔ اور دشمنوں کی جو چیز اپنے قبضہ میں ہو اس کو دوبارہ واپس کرنے پر راضی ہو جائیں۔