صحابی کی مثال
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۶، صفحہ ۲۲
ایمان علماء اسلام نے ایمان کی پانچ قسمیں کی ہیں :
الایمان المطبوع وهو ایمان الملائکہ نقش کیا ہوا ایمان اور وہ فرشتوں کا ایمان ہے۔ والایمان المعصوم وهو ایمان الانبیاء معصوم ایمان اور وہ پیغمبروں کا ایمان ہے۔ والایمان المقبول وهو ایمان المومنین مقبول ایمان اور وہ مومنین کا ایمان ہے۔ والایمان الموقوف وهو ایمان المبتدعین موقوف کیا ہوا ایمان اور وہ بدعتی لوگوں کا ایمان ہے۔ والایمان المردود وهو ایمان المنافقین رد کیا ہوا ایمان اور وہ منافقین کا ایمان ہے۔ اس قسم کی فنی تقسیم بہت زیادہ غلط فہمی پیدا کرنے والی ہے ۔ بظاہر اس تقسیم میں ہر بات بیان ہو گئی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ جو اصل بات ہے وہی اس میں غیر مذکور یا کم از کم غیر واضح ہے اور وہ ہے عارف کا ایمان۔
ایمان کی اصل قسم وہ ہے جس کو معرفت یا دریافت کہا جا سکتا ہے ۔ ایک شخص اپنے آپ کو دیکھتا ہے ۔ وہ کائنات میں غور کرتا ہے ۔ وہ قرآن و سنت کا مطالعہ کرتا ہے ۔ اس مطالعہ اور غور و فکر کے ذریعہ اس پر یہ منکشف ہوتا ہے کہ یہاں ایک خالق و مالک ہے ۔ وہ ذاتی دریافت کے طور پر معلوم کرتا ہے کہ قرآن خدا کی کتاب ہے اور محمد بن عبد اللہ خدا کے سچے رسول ہیں ۔
یہ ایمان جو کسی آدمی کو بطور دریافت حاصل ہوتا ہے یہ اتنی بڑی حقیقت ہے جس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا اور نہ اس کو کسی خانہ میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ۔ یہ لا محدود خدا کا مشاہدہ ہے پھر کوئی محدود زبان کیونکر اس کا احاطہ کر سکتی ہے ۔ یہ ابدی حقیقت کا انکشاف ہے پھر اس کو وقتی اصطلاحوں میں کس طرح بیان کیا جاسکتا ہے ۔ یہ محسوسات سے ماورا ہستی کا ادراک ہے پھر اس کو محسوسات کے دائرہ میں کیسے ظاہر کیا جا سکتا ہے ۔
ایک ایسی چیز جس کا تعلق گہرے معنوی حقائق سے ہو اس کو فنی الفاظ میں بیان کرنا ہمیشہ ایک نقصان کی قیمت پر ہوتا ہے ۔ اس میں وہی بات بیان ہونے سے رہ جاتی ہے جو کہ اصل بات ہے ۔ اس میں وہی بات مذکور نہیں ہوتی جس کا ذکر سب سے پہلے ہونا چاہیے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1986 All issues