Al-Risala · May 1986 · page 25

نصیحت کا اثر

الرسالہ، مئی ۱۹۸۶، صفحہ ۲۵

نصیحت کا اثر

قال سفيان بن حسين - ذكرتُ رجلاً بسوءٍ عند إياس بن معاوية - فنظر في وجھی قال - اغزوتَ الروم - قلتُ لا - قال السند والهند والترك - قلت لا - فقال افسَلِمَ منك الروم والسند والهند و الترك ولم يسلم منك أخوك المسلم - ۔ قال فلم أعد بعدها (البداية والنهاية)

قال ابن أبي حاتم قدم سفيان الثوري المدينة فسمع المعافري يتكلم ببعض ما يضحك به الناس فقال له يا شيخ اما علمت ان الله تعالى يوماً يخسر فيه المبطلون - قال فما زالت تعرف في المعافري حتى لحق بالله تعالى (تفسير ابن كثير، الجزء الرابع، صفحه ۱۵۱) سفیان بن حسین کہتے ہیں ۔ میں نے ایاس بن معاویہ کے پاس ایک شخص کا ذکر برائی کے ساتھ کیا۔ انھوں نے میری طرف دیکھا اور کہا ۔ کیا تم نے روم سے جہاد کیا ہے ۔ میں نے کہا نہیں۔ انھوں نے کہا کیا تم نے سندھ اور ہند اور ترک سے جہاد کیا ہے۔ میں نے کہا نہیں۔ انھوں نے کہا پھر کیا روم اور سندھ اور ہند تو تم سے محفوظ رہے اور تمہارا بھائی مسلمان تم سے محفوظ نہ رہ سکا۔ سفیان بن حسین کہتے ہیں کہ اس کے بعد پھر میں نے اس بات کو نہیں دہرایا۔ ابن ابی حاتم کہتے ہیں کہ سفیان ثوری مدینہ آئے انھوں نے معافری کو سنا کہ وہ کچھ ایسی باتیں کہتے ہیں جس سے لوگ ہنسیں ۔ سفیان ثوری نے ان سے کہا کہ اے شیخ ، کیا تم کو نہیں معلوم کہ اللہ تعالیٰ کا ایک دن ہے جب کہ باطل لوگ گھاٹے میں رہیں گے ۔ راوی کہتے ہیں کہ یہ نصیحت معافری میں پہچانی جاتی رہی یہاں تک کہ وہ اللہ سے جاملے۔

آدمی کا احساس زندہ ہو تو وہ نصیحت کو سن کر فوراً چونک اٹھتا ہے اور اپنی اصلاح کر لیتا ہے ۔ مگر جن لوگوں کا احساس مردہ ہو جائے ۔ وہ نصیحت کو سنتے ہیں مگر نصیحت ان کے اندر کوئی تڑپ پیدا نہیں کرتی - نصیحت سننے کے بعد بھی ان کا وہی حال رہتا ہے جو نصیحت سننے سے پہلے پیدا ہوتا ہے۔

ان کا مال کھاتا۔

کرتھائے پنے کر تے ہوۓ چلی

‹ Previous page Next page › Contents of May 1986 All issues

Printed page