تیسری آنکھ
الرسالہ، مئی ۱۹۸۶، صفحہ ۲۶
تیسری آنکھ
حضرت عمر فاروقؓ کا قول ہے : من لم ينفعه ظنه لم تنفعه عينه (جس شخص کا گمان اسے فائدہ نہ دے اس کی آنکھ بھی اس کو فائدہ نہیں دے سکتی) یعنی جو آدمی سوچ کر نہ سمجھے وہ دیکھ کر بھی نہیں سمجھ سکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو چیز آنکھ سے دکھائی دیتی ہے وہی ساری بات نہیں ہوتی ہمیشہ ظاہری مشاہدہ کے سوا بھی کچھ باتیں ہوتی ہیں۔ آدمی اگر مشاہدہ کے ساتھ ان مزید باتوں کو نہ ملا سکے تو وہ بات کی حقیقت کو سمجھ نہیں سکتا۔
مثلاً علامہ اقبال انجمن حمایت اسلام (لاہور) کے جلسوں میں نظمیں پڑھا کرتے تھے۔ ان جلسوں میں مسلمان جوق در جوق آتے تھے۔ یہ دیکھ کر انھوں نے کہہ دیا :
نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی مگر بعد کو جب مسلم قوم کے بارہ میں ان کو مزید تجربات ہوئے تو انھوں نے کہا :
تیرے محیط میں کہیں گوہر نہ زندگی نہیں ڈھونڈ چکا میں موج موج دیکھ چکا صدف صدف مولانا ابو الاعلیٰ مودودی نے پاکستان میں خلافت کعبہ (1963) اور یوم شوکت اسلام (1970) کے جلوس نکالے۔ اس میں وہاں کے مسلمان لاکھوں کی تعداد میں شریک ہوئے۔ یہ دیکھ کر مولانا مودودی نے سمجھ لیا کہ پاکستان کے ۹۹ فی صد مسلمان اسلام چاہتے ہیں۔ وہ اسلامی نظام کا نعرہ لے کر الیکشن میں کود پڑے مگر چار الیکشنوں میں حصہ لینے کے باوجود انھیں پانچ فی صد سے زیادہ ووٹ نہیں ملے ۔ اسی طرح ہندوستان میں آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے1966 میں اپوزیشن کے ساتھ مل کر یہ تحریک چلائی کہ کانگریس کو الیکشن میں ہراؤ۔ اس وقت جلسوں اور جلوسوں میں مسلمانوں کی زبر دست بھیڑ دکھائی دینے لگی۔ مسلم قائدین نے یہ اعلان کر دیا کہ ہندوستان کے مسلمان اپنے تمام اختلافات کو مٹا کر ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو گئے ہیں۔ مگر الیکشن کے ختم ہوتے ہی مسلمانوں کا عظیم الشان اتحاد ختم ہو چکا تھا اور اسی کے ساتھ خود قائدین کا اپنا اتحاد بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں دو آنکھ کے ساتھ "تیسری آنکھ" کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس آدمی کے پاس تیسری آنکھ نہ ہو وہ دیکھنے کے بعد بھی نہیں دیکھے گا، وہ جاننے کے بعد بھی جاننے سے محروم رہے گا۔