الفاظ مل گئے
الرسالہ، مئی ۱۹۸۶، صفحہ ۲۷
الفاظ مل گئے
اچاریہ رج نیش اپنے آپ کو دولت مندوں کا گرو (Guru of the rich) کہتے ہیں۔ انھوں نے ساری دنیا میں اپنے لاکھوں معتقد پیدا کر لیے۔ مغرب کے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں میں ان کی مقبولیت کا خاص راز یہ ہے کہ وہ آزاد جنسی تعلق (Free sex) کے لیے خوبصورت نظریاتی جواز فراہم کرتے ہیں۔ وہ آزاد جنسی تعلق کے نہ صرف مبلغ ہیں بلکہ خود بھی اس پر باقاعدہ عامل ہیں۔ اپنے ایک انٹرویو السٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا ۲۹ ستمبر ۱۹۸۵) میں رج نیش نے فخر کے ساتھ کہا کہ میں سب سے زیادہ عورتوں سے محبت کرتا ہوں۔ اس معاملہ میں میں پاک باز نہیں ہوں۔ آپ میری داڑھی دیکھ سکتے ہیں۔ یہ اتنی جلد سفید ہو گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے بہت سرگرم جنسی زندگی گزاری ہے۔ میں نے ۵۰ سال کے اندر ۲۰۰ سال کو نچوڑا ہے :
You can see my beard. It has become grey so quickly. Because I have lived so intensely. That I have compressed in 50 years almost 200 years. اچاریہ رج نیش نے امریکہ میں بہت بڑا مرکز قائم کیا تھا۔ مگر نومبر ۱۹۸۵ میں وہ گرفتار کر لیے گئے اور پھر وہاں سے نکال دیئے ۔ اس کے بعد وہ ہندوستان آئے۔ پھر نیپال گیے۔ اس کے بعد وہ اچانک یونان چلے گئے۔ یونان کے آرتھو ڈاکس چرچ نے ان کو عوام کے لیے خطرہ (A public menace) بتایا۔ اور ان کے شاگردوں کو جنسی بد مستیوں (Sex orgies) کا مجرم قرار دیا۔ چرچ نے اعلان کیا کہ اگر ان لوگوں نے ملک نہ چھوڑا تو ان کو سنگ سار کیا جائے گا۔ چنانچہ ۵ مارچ1986 کو یونان کی پولیس نے ان کو ملک بدر کر دیا۔ اس کے بعد رج نیش اپنے امیر ساتھیوں کے ہمراہ ایک خصوصی جہاز پر سوار ہو کر اسپین پہنچ گئے : The Bhagwan said at Athens airport, that Greeks had learned nothing since Socrates was executed in 399 BC for corrupting Greek youth and preaching false gods. بھگوان رج نیش نے ایتھنز ایئر پورٹ پر کہا کہ یونان کا فلسفی سقراط ۳۹۹ ق م میں اس جرم میں ہلاک کر دیا گیا تھا کہ وہ نوجوانوں کو بگاڑتا ہے اور جھوٹے مذہب کی تبلیغ کرتا ہے۔ اس کے بعد