Al-Risala · May 1986 · page 28

الفاظ مل گئے

الرسالہ، مئی ۱۹۸۶، صفحہ ۲۸

اب تک یونانیوں نے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ (ٹائمز آف انڈیا ۷۔ مارچ ۱۹۸۶) رج نیش نے یونان سے نکالے جانے کے وقت سقراط کا حوالہ اس طرح دیا ہے گویا کہ ان کا معاملہ بھی وہی ہے جو قدیم یونانی فلسفی سقراط کا معاملہ تھا۔ حالانکہ سراسر دھاندلی ہے، دونوں کا معاملہ اتنا مختلف ہے کہ ایک کو دوسرے سے کوئی نسبت نہیں۔

سقراط (۳۹۹ ۔ ۴۷ ق م) قدیم یونان کے تین بڑے فلسفیوں (سقراط، افلاطون، ارسطو) میں سے ایک تھا۔ اس کو حکومت کے فیصلے کے تحت زہر کا پیالہ پینا پڑا۔ مگر یہ سراسر ظلم کا فیصلہ تھا، سقراط مسلّمہہ طور پر ایک بے قصور آدمی تھا۔

سقراط، تاریخی ریکارڈ کے مطابق، نہایت پاکباز آدمی تھا۔ اس کے شاگرد افلاطون نے اس کی بابت لکھا ہے کہ وہ اپنے وقت کا سب سے زیادہ صالح اور بے غرض آدمی تھا، رج نیش کا جرم خود غلط ہونا ہے۔ جب کہ سقراط کا معاملہ یہ تھا کہ وہ خود نہایت صحیح آدمی تھا، اس کو صرف اس لیے مجرم قرار دیا گیا کہ وہ مجرم لوگوں کو مجرم کہتا تھا۔

سقراط کے زمانہ میں یونان کا سماج بہت بگڑا ہوا تھا۔ سقراط اس کے خلاف تبلیغ کرتا تھا۔ وہ ظاہری نمائش کے اندر چھپے ہوئے فاسد اخلاق کی پردہ دری کرتا تھا۔ سقراط خدا پر گہرا عقیدہ رکھتا تھا۔ مگر وہ یونانیوں کے مشرکانہ اوہام پر سخت تنقید کرتا تھا، سقراط کی ان باتوں کی زد وہاں کے بڑے لوگوں پر پڑتی تھی۔ چنانچہ وہ لوگ سقراط پر بگڑ گئے اور انھوں نے اس پر جھوٹے الزام لگا کر اس کو مجبور کیا کہ وہ اپنے ہاتھ سے زہر کا پیالہ پیئے۔ برطانیہ کا (دہم ۱۹۸) کے الفاظ میں، اس کے خلاف فرد جرم دو چیزوں پر مشتمل تھی ۔ نوجوانوں کو بگاڑنا۔ اور جن دیوتاؤں کو شہر کے لوگ پوجتے ہیں ان کو نظر انداز کرنا۔

There were two accounts in the accusation: corruption of the young, and neglect of the gods whom the city worships (16/1001-1002). حقیقت یہ ہے کہ سقراط کے برعکس، رج نیش مسلّم طور پر ایک غلط آدمی ہے، اس کے باوجود اس کو اپنی صفائی کے لیے الفاظ مل گئے۔ اس دنیا میں ہر آدمی کو اسی طرح اپنی صفائی کے لیے الفاظ ملتے رہیں گے، خواہ باعتبار حقیقت وہ کیسا ہی مجرم کیوں نہ ہو۔ قیامت کے بھونچال سے پہلے کسی شخص سے اس کی یہ آزادی چھننے والی نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1986 All issues

Printed page