معنی نہ کہ الفاظ
الرسالہ، مئی ۱۹۸۶، صفحہ ۲۹
معنی نہ کہ الفاظ
عن ابی ھریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ حضرت ابو ہریرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وسلم انہ قال : من جلس فی مجلس فکثر روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جو آدمی کسی فیه لغطھ فقال قبل ان یقوم من مجلسه: مجلس میں بیٹھا ۔ وہاں زور زور سے باتیں ہوئیں سبحانک اللهم وبحمدک اشهدان پھر اس مجلس سے اٹھنے سے پہلے اس نے کہا ، اے لا اله الا انت استغفرك واتوب اللہ تو پاک ہے اور تیری حمد ہے۔ میں گواہی دیتا الیک ، الا غفر الله له ما کان فی مجلسه ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تجھ سے بخشش ذالك ( ترمذی ، نسائی ) چاہتا ہوں اور تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں۔ تو اس مجلس میں جو باتیں ہوئیں ، اللہ ان کے لیے اسے معاف کر دیتا ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان ” الفاظ “ کو زبان سے کہہ دینے کی وجہ سے اللہ اسے معاف کر دیتا ہے یہ معانی در اصل ادائگی معنی کی بنا پر ہوتی ہے نہ کہ محض ادائگی الفاظ کی بنا پر ۔ یہ اس شخص کا حال بیان ہوا ہے جس کے دل میں اللہ کا ڈر موجود ہو۔ ایسا شخص جب کچھ لوگوں کے ساتھ بیٹھتا ہے اور وہاں کسی موضوع پر گفتگو ہوتی ہے تو گفتگو کے درمیان کبھی اس پر غفلت طاری ہو جاتی ہے۔ وہ زور زور سے بولتا ہے ، وہ لوگوں سے غیر ضروری تکرار کرنے لگتا ہے ۔
تاہم ابھی مجلس ختم نہیں ہوتی کہ اس کو احساس ہو جاتا ہے کہ میں نے غلط کیا۔ میں نے بے فائدہ کلام کیا۔ اس وقت اس کے دل میں شرمندگی کا جذبہ جاگ اٹھتا ہے۔ وہ اپنے اندر ہی اندر اپنا احتساب کرنے لگتا ہے۔ اس سے پہلے وہ بندوں سے مخاطب تھا ۔ اب وہ اپنے رب سے مخاطب ہو جاتا ہے۔ اس وقت اس کی زبان سے اس قسم کے کلمات نکل پڑتے ہیں جس کا ایک نمونہ اوپر کی حدیث میں نظر آتا ہے۔ حدیث کے یہ الفاظ حقیقت دعا کے معنی کو بتا رہے ہیں نہ کہ محض دعا کے الفاظ کو ۔