توہم پرستی
الرسالہ، مئی ۱۹۸۶، صفحہ ۳۰
توہم پرستی
قدیم زمانہ میں زندگی کا سارا نظام توہماتی عقیدوں پر قائم تھا۔ لوگوں کے درمیان عجیب عجیب بے بنیاد خیالات رائج تھے ۔ علم الافلاک کی ایک کتاب میں بتایا گیا ہے کہ قدیم زمانہ میں جب کبھی سورج گرہن ہوتا تھا تو چین کے لوگ سمجھتے تھے کہ سورج کو ایک بہت بڑا اژدہا نگل رہا ہے۔ ملک کی پوری آبادی مل کر زیادہ سے زیادہ شور مچاتی تھی تاکہ سورج کو بچایا جا سکے ۔ اور وہ ہمیشہ کامیاب ہوتی تھی : When an eclipse occurred, the Chinese thought that the Sun was being swallowed by a huge dragon. The whole population joined in making as much noise as possible to scare it away. They always succeeded!
Iain Nicolson, Astronomy, 1978.
جیسا کہ معلوم ہے ، سورج گرہن یا چاند گرہن ہمیشہ ایک متعین وقت کے لیے ہوتا ہے ، اس وقت کے بعد وہ لازماً چھوٹ جاتا ہے۔ اس فلکیاتی قاعدہ کی بنا پر گرہن اپنے وقت پر چھوٹ جاتا تھا۔ مگر قدیم چین کے جاہل عوام بطور خود یہ سمجھتے تھے کہ ان کے چلانے اور شور مچانے کی وجہ سے اژدھانے اس کو چھوڑ دیا ہے۔ توہمات کی یہ قسم موجودہ زمانہ میں ختم ہو گئی ۔ مگر اس نوعیت کے دوسرے توہمات بدستور پوری شدت کے ساتھ آج کی دنیا میں بھی پائے جاتے ہیں ۔ آج بھی یہ صورت حال بہت بڑے پیمانے پر ساری دنیا میں موجود ہے کہ ایک واقعہ جو خارجی اسباب کے تحت آزادانہ طور پر پیش آیا ہے اس کو بطور خود اپنی طرف منسوب کر لینا۔ مثلاً موجودہ زمانہ میں ساری دنیا میں مذہب کا احیاء ہوا ہے ۔ احیاء کے یہ مناظر ہر مذہب میں پائے جاتے ہیں۔ اس کے متعین عالمی اسباب ہیں اور اس پر بڑی بڑی کتابیں شائع ہو چکی ہیں ۔ اس سلسلے میں ایک کافی معلوماتی مقالہ انگریزی جریدہ اسپین (دسمبر ۱۹۸۴) میں چھپا تھا جس کا عنوان تھا : مذہب کی طرف واپسی (A Return to Religion) مگر آپ کو ایسے خوش فہم لوگ ملیں گے جو اس ہونے والے واقعہ کو اپنے مفکرِ اعظم “ کے نام سے منسوب کر لیں گے اور فخر کے ساتھ کہیں گے کہ جدید عہد ہمارے مفکر کا پیدا کردہ عہد ہے ، وہی اس نئے عہد کا ہیرو ہے ۔
توہم پرستی دنیا کا سب سے بڑا مذہب ہے۔ اس کی ایک قسم ختم ہوتی ہے تو انسان کا زرخیز ذہن دوسری توہم پرستی ایجاد کر لیتا ہے۔ توہم پرستی شاید قیامت سے پہلے ختم ہونے والی نہیں ۔