الحاد
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۶، صفحہ ۲۳
الحاد
قرآن میں گمراہی کی جو صورتیں بتائی گئی ہیں ان میں سے ایک الحاد ہے۔ الحاد کے معنی انحراف یا نشانہ سے ہٹنے کے ہیں۔ عربی میں کہتے ہیں الحد السھم الهدف تیر نشانے کے ایک جانب لگا) اسی مناسبت سے بغلی قبر کے لیے لحد یا ملحود کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں یہ مادہ چار مقام پر استعمال ہوا ہے ۔
١- سورہ اعراف میں ارشاد ہوا ہے کہ ان لوگوں کو چھوڑ وجو اللہ کے نام میں الحاد کرتے ہیں ۔ (وذروا الذین یلحدون فی اسمائه ۔ (۱۸۰) خدا کے نام میں الحاد کی ایک صورت یہ ہے کہ اس کو جسمانی نام دیئے جائیں۔ خدا نے خود اپنے کچھ نام بتائے ہیں۔ مثلاً رحمان، رحیم وغیرہ۔ مگر جن لوگوں پر حسّیت کا غلبہ ہو وہ خدا کو محسوس پیکر میں ڈھالنے کے لیے اس کا کوئی جسمانی نام رکھ لیتے ہیں ۔ قدیم عرب کے بڑے بڑے بت اسی اصول پر خدا کے جسمانی نام تھے۔ انھوں نے خدا کے سچے ناموں میں " انحراف " کر کے کچھ نئے نام بنالیے اور خود ساختہ بتوں کو یہ نام دے کر کہا کہ یہ بت خدا سے الگ نہیں ہیں بلکہ اس کا محسوس اظہار ہیں :
اى اتركوا الذین یمیلون فى اسمائه یعنی ان لوگوں کو چھوڑ وجو اللہ کے ناموں میں حق تعالى عن الحق كما فعل المشركون حيث سے انحراف کرتے ہیں۔ جیسا کہ عرب کے مشرکوں نے کیا۔ اشتقوا لآلهتهم اسماء منها اللات من انھوں نے خدا کے ناموں سے اپنے بتوں کے نام نکالے ۔ الله والعزى من العزيز ومناة من مثلاً لآت اللہ سے اور عزّیٰ عزیز سے اور منات المنان (صفوة التفاسیر)
منات سے ۔
۲۔ سورہ نحل میں الحاد کا لفظ ان لوگوں کے ذیل میں آیا ہے جو یہ کہتے تھے کہ قرآن خدا کا کلام نہیں ہے بلکہ محمد ﷺ نے بعض عجمی غلاموں سے سیکھ کر اس کو تصنیف کر لیا ہے (انهم يقولون انما يعلمه بشر لسان الذی یلحدون اليه العجمی وهذا لسان عربی مبین ۔ ۱۰۳) یعنی وہ بات کو صحیح اور سچے رُخ سے موڑ کر غلط رُخ پر لے جا رہے ہیں ۔ جس کلام کو خدا کی طرف منسوب کرنا چاہیے اس کو انسان کی طرف منسوب کرتے ہیں (والمعنى يميلون قولهم عن الصدق والاستقامة
‹ Previous page Next page › Contents of January 1986 All issues