Al-Risala · May 1986 · page 37

فقہاء کی رائے

الرسالہ، مئی ۱۹۸۶، صفحہ ۳۷

کم آٹھ سال نہ زیادہ سے زیادہ دس سال تھی۔ اس کے مطابق حضرت موسیٰ کا نکاح ہوا اور پھر انھوں نے دس سال تک حضرت شعیب کے گھر پر خدمت کی۔ اس طرح مہر موجل کو پورا کر کے وہ دوبارہ مدینہ سے مصر کے لیے روانہ ہو گئے (القصص)۔

مہر موجل کسی قسم کے غیر متعین مہر کا نام نہیں ہے۔ شرعی اعتبار سے مہر موجل وہ ہے جس کی ادائیگی کی اجل (مدت) بوقت نکاح طے ہو اور وہ اپنے مقررہ وقت پر پوری طرح ادا کر دی جائے ۔

فقہاء کی رائے

مہر کا اصل شرعی طریقہ یہ ہے کہ اس کو نکاح کے وقت فوراً ادا کر دیا جائے ۔ اسی پر اکثر صحابہ کا عمل رہا ہے۔ گویا اصل مہر وہی ہے جو مہر معجل ہو۔ مہر کی دوسری قسم (مہر موجل) دوسرا برابر درجہ کا طریقہ نہیں۔ یہ صرف رخصت کا طریقہ ہے۔ اصلًا مہر کی ایک ہی قسم ہے، اور وہ فوراً ادا کر دینا ہے۔ تاہم بطور رخصت یہ دوسرا طریقہ بھی رکھا گیا ہے تاکہ آدمی حسب ضرورت نکاح کے بعد بھی مقررہ مدت پر اس کو ادا کر کے بری الذمہ ہو سکے ۔

مہر کے بارہ میں تفصیلی ابواب فقہ کی کتابوں میں آئے ہیں۔ عبدالرحمن الجزری کی کتاب الفقہ علی المذاہب الاربعہ میں مہر (مباحث الصداق) پر85 صفحات ہیں ۔ مہر کے موجل یا معجل (تأجيل الصداق و تعجيلہ) کے مسائل چار صفحات میں بیان ہوئے ہیں ۔ اس بارہ میں اگر چہ فقہاء کے درمیان بعض اختلافات ہیں مگر وہ تمام تر جزئی ہیں ۔ ان جزئی اختلافات سے قطع نظر مختلف فقہاء کے اقوال کا خلاصہ صاحب کتاب کے الفاظ میں یہ ہے :

الحنفیة : قالوا يجوز تأجيل الصداق وتعجيله حنفیہ کا کہنا ہے کہ مہر کی تاخیر جائز ہے۔ اس کا کل كله او بعضه ۔ ولكن يشترط ان لا يكون یا جزء فوری طور پر دیا بھی جا سکتا ہے۔ مگر شرط یہ الأجل مجهولاً ۔

المالكية : فاذا كان الصداق غير معين مالکیہ کا قول ہے کہ مہر جب غیر معین ہو تو اس کا کل فانه يجوز كله او بعضه بشرط ان لا يكون یا جزء جائز ہے اس شرط پر کہ مدت مجہول الأجل مجهولاً ۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1986 All issues

Printed page