Al-Risala · May 1986 · page 38

فقہاء کی رائے

الرسالہ، مئی ۱۹۸۶، صفحہ ۳۸

الحنابلة : قالوا يجوز ان يوّجل الصداق حنابلہ کہتے ہیں کہ یہ جائز ہے کہ مہر کا کل یا جزء كله او بعضه بشرط ان لا يكون مؤخر کیا جائے اس شرط پر کہ مدت مجہول نہ الاجل مجهولاً۔

ہو ۔

الشافعية : قالوا يجوز تأجيل الصداق شافعیہ کا کہنا ہے کہ مہر کی تاخیر جائز ہے اس بشرط ان لا يكون الاجل مجهولاً سواء شرط پر کہ مدت مجہول نہ ہو۔ خواہ مہر کا کل حصہ كان المؤجل كل الصداق او بعضه ۔ موجل ہو یا اس کا جزئی حصہ ۔

كتاب الفقه على المذاهب الاربعة، الجزء الرابع ، مصر ۱۹۶۹ ، صفحه ۱۵۶ - ۱۵۳ زیادہ مہر نہیں مہر رقم میں بھی دی جاسکتی ہے اور کسی چیز کی صورت میں بھی ۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ اس کی مقدار حسب استعداد مقرر کی جائے ۔ وہ اتنی ہی ہو کہ آدمی سہولت کے ساتھ اس کو اسی وقت ادا کر سکے ۔ مہر کی کم سے کم حد کے بارہ میں فقہاء کے مختلف اقوال ہیں ۔ تاہم ان کا خلاصہ یہ ہے کہ مہر کی کم سے کم مقدار یہ ہے کہ وہ اتنی ہو کہ اس کے ذریعے سے ضرورت کی کوئی چیز خریدی جا سکے ۔ ہر وہ رقم مہر بن سکتی ہے جو کسی چیز کی قیمت ہو (كل ما صح ثمناً صح صداقاً، الفقه على المذاهب الاربعة ، جلد ۴ ، صفحه ۱۰۷ )

احادیث میں کوئی بھی ایسی حدیث نہیں جس میں زیادہ مہر مقرر کرنے کی ہمت افزائی کی گئی ہو۔ اس کے برعکس بہت سی روایتیں ہیں جن میں کم مہر مقرر کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ اس طرح کے معاملات میں اسلام کا طریقہ ہمیشہ تلقین کا ہوتا ہے نہ کہ تحریم کا ۔ چنانچہ زیادہ مہر کو اگرچہ بالکل ممنوع قرار نہیں دیا گیا ہے مگر تمام روایتیں اسی کے حق میں ہیں کہ مہر زیادہ نہ باندھی جائے ۔ چند روایتیں یہ ہیں :

عن ابن عباس قال قال رسول الله صلى الله رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : سب عليه وسلم خير النساء ايسرهن صداقاً۔ سے بہتر عورت وہ ہے جس کا مہر سب سے آسان ہو۔ عن عائشة انه صلى الله عليه وسلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورت کی

‹ Previous page Next page › Contents of May 1986 All issues

Printed page