Al-Risala · May 1986 · page 39

فتلك خمس مأّة درهم ۔ هذا صداق

الرسالہ، مئی ۱۹۸۶، صفحہ ۳۹

من يمن المرأة : سهل أمرها وقلة بركتها و هے هے کہ اس کا معاملہ سهل ہو صداقھا ۔

روی احمد والبيهقى : اعظم النساء بركة ايسر هن صداقاً عن ابی سلمة قال سألت عائشة كم كان صداق النبی صلى الله عليه وسلم ۔ قالت كان صداقه لأزواجه اثنتی عشر اوقية ونش ۔ قالت اتدرى ما النش۔

قلت لا ۔ قالت نصف اوقية (رواه مسلم)

فتلك خمس مأّة درهم ۔ هذا صداق

رسول الله صلى الله عليه وسلم لأزواجه۔

لكن ام حبيبة اصدقها النجاشي عن النبی صلى الله عليه وسلم اربعة آلات درھم ۔

(تفسیر مظہری ، المجلد الثانی ، صفحه (٥) غرافض اور اس کا مہر کم ہو ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے زیادہ برکت والی عورت وہ ہے جس کا مہر سب سے آسان ہو ۔

حضرت عائشہ سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کا مہر کتنا تھا ۔ انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مہر اپنی بیویوں کے لیے بارہ اوقیہ اور ایک نش تھا ۔ انھوں نے کہا کیا تم جانتے ہو کہ نش کیا ہے ۔ راوی نے کہا کہ نہیں۔ انھوں نے کہا کہ نصف اوقیہ ۔ یہ تقریباً پانچ سو درہم ہوا یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مہر اپنی بیویوں کے لیے تھا۔ لیکن ام حبیبہ کا مہر چار ہزار درہم تھا اور اس کو شاہ نجاشی نے (غائبانہ نکاح ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے خود مقر رکیا تھا ۔

غیر افضل طریقہ

روایات میں آتا ہے کہ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ منبر پر چڑھے اور حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ میں نہیں جانتا کہ مہر میں کس نے چار سو درہم پر اضافہ کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کا مہر آپس میں چار سو درہم یا اس سے کم ہوتا تھا ۔ اور اگر مہر میں زیا دتی تقویٰ اور عزت کی بات ہوتی تو تم مہر کے بارے میں ان سے آگے نہیں جا سکتے تھے ۔ دوسری روایت میں ہے کہ خلیفہ دوم نے فرمایا کہ اے لوگو ، تم عورتوں کے مہر نہ زیادہ نہ باندھو۔ اور مجھے جس شخص کے بارے میں بھی یہ اطلاع ملے گی کہ اس نے رسول اللہؐ کے مہر سے زیادہ مہر باندھا ہے

‹ Previous page Next page › Contents of May 1986 All issues

Printed page