Al-Risala · January 1986 · page 24

الحاد

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۶، صفحہ ۲۴

البه ، التفسیر المظهری)

۳۔ سورہ حم السجدہ میں ارشاد ہوا ہے کہ جو لوگ ہماری آیتوں میں کج روی اختیار کرتے ہیں وہ ہم سے چھپے ہوئے نہیں ہیں (إن الذين يلحدون في آياتنا لا يخفون علينا ۔ 40) اس سے مراد قرآنی آیتوں کی تاویل میں انحراف ہے ۔ یعنی وہ آیات کو حق سے موڑ دیتے ہیں ۔ اور دلیلوں کو غلط رُخ دے کر طعن و تشنیع کرتے ہیں (يميلون عن الحق في ادلتنا بالطعن ، تفسیر النسفی) ۴۔ سورہ حج میں کہا گیا ہے کہ جو شخص شرارت کی وجہ سے مسجد حرام میں ٹیڑھی راہ نکالے گا اس کو ہم سخت سزا دیں گے (ومن يرد فيه بالحاد بظلم نذقه من عذاب الیم ۔ ۲۵) یعنی جو شخص مسجد حرام میں کوئی بُرائی چاہے گا یا سیدھے طریقے سے انحراف کرے گا یا کسی معصیت کا قصد کرے گا تو اس کو ہم شدید قسم کا عذاب دیں گے (ای ومن يرد فيه سوءاً او ميلًا عن القصد او يهم بمعصية نذقه اشد انواع العذاب ، صفوة التفاسير)

الحاد، قرآن کے مطابق، یہ ہے کہ آدمی بظاہر دین کا لفظ بولے مگر غلط تاویل سے اس کے رُخ کو بے رخ کردے۔ اس کو خدا اور رسول کے مطلوب مفہوم میں لینے کے بجائے کسی خود ساختہ مفہوم میں لینے لگے۔

اس کی ایک صورت یہ ہے کہ وہ ذاتی حکم کو اجتماعی حکم بنا دے ۔ ایک حکم جس کا رُخ آدمی کی اپنی طرف ہو، اس کو پھیر کر وہ دوسروں کی طرف کر دے۔ مثلاً قرآن میں ارشاد ہوا ہے : وربک فکبر وثيابك فطهّر اپنے رب کی بڑائی کر اور اپنے اخلاق کو پاک کر ) اب آدمی اگر یہ کرے کہ وثيابك فطهّر کو وثياب غيرك فطهّر کے معنی میں لے لے اور دوسروں کے اوپر اخلاقی داروغہ بن کر کھڑا ہو جائے تو یہ مذکورہ آیت میں الحاد کرنے کے ہم معنی ہوگا۔ اسی طرح " اللہ بڑا ہے "، بلاشبہ اس کائنات کی سب سے بڑی سچائی ہے ۔ مگر وہ اس وقت گمراہی بن جاتی ہے جب کہ آدمی اس میں الحاد کر کے اس کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے لگے۔ وہ اس کا حوالہ دے کر اپنے سیاسی حریفوں کو گرانے اور اکھاڑنے میں لگ جائے ۔ " اللہ بڑا ہے اس لیے میں بڑا نہیں ہوں "، کہنا قرآن کی تعلیم کو صحیح رُخ سے لینا ہے ۔ " اللہ بڑا ہے اس لیے تم بڑے نہیں ہو " کا نعرہ لگانا قرآن کی تعلیم کو غلط رُخ سے لینا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1986 All issues

Printed page