Al-Risala · January 1986 · page 25

حدیث و دعا

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۶، صفحہ ۲۵

حدیث و دعا

ان الدعاء هو العبادۃ (احمد)

الدعاء مخ العبادۃ (ترمذی)

من لم يسأل الله يغضب عليه (ترمذی) لايرد القضاء الا الدعاء (ترمذی)

ما من احد يدعوا بدعاء الا آتاه الله ما سأل او كف عنه من السوء مثله ما لم يدع باثم او قطعية رحم (ترمذی)

ليس شئی اكرم على الله من الدعاء (ابن ماجه) سلوا الله من فضله فان الله يحب ان يسأل (ترمذی)

ان الدعاء ينفع مما نزل ومما لم ينزل فعليكم عباد الله بالدعاء (احمد)

يسأل احدكم ربه حاجته كله حتى يسأل شسع نعله اذا انقطع (ترمذی)

دعا ہی عبادت ہے۔

دعا عبادت کا مغز ہے۔

جو شخص اللہ سے نہیں مانگتا اللہ اس پر غضب ناک ہوتا ہے۔ قضا کو صرف دعا ہی ٹال سکتی ہے ۔

کوئی شخص جب اللہ سے دعا کرتا ہے تو اللہ یا تو اس کو وہ چیز دے دیتا ہے جو اس نے مانگی تھی یا اس کے برابر کوئی بلا اس سے روک دیتا ہے ، جب تک کہ وہ کسی گناہ کی یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے ۔ اللہ کے نزدیک دعا سے زیادہ بہتر کوئی چیز نہیں اللہ سے اس کا فضل مانگو ۔ کیوں کہ اللہ پسند کرتا ہے کہ اس سے مانگا جائے ۔

دعا ان چیزوں کے لیے بھی مفید ہے جو اُتر چکی ہیں اور ان چیزوں میں بھی جو ابھی نہیں اُتریں ۔ تو اے اللہ کے بندو، تم ضرور دعا مانگو ۔

تم میں سے ہر ایک کو اپنے رب سے اپنی تمام حاجت مانگنا چاہیے ، یہاں تک کہ اگر اس کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو اس کو بھی وہ خدا سے مانگے۔ دعا کرنے والا اپنے آپ کو عاجز مطلق کے مقام پر رکھتا ہے اور خدا کو قادر مطلق کے مقام پر۔ دعا ایک طرف اپنی حیثیت واقعی کا اقرار ہے اور دوسری طرف خدا کی حیثیت واقعی کا اعتراف ۔ یہ حقیقت پسندی کی آخری شکل ہے اور حقیقت پسندی بلا شبہ اس دنیا کا سب سے بڑا عمل ہے۔ حقیقت واقعہ کے اعتراف سے بڑا کوئی عمل اس امتنان کی دنیا میں نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1986 All issues

Printed page