علم
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۶، صفحہ ۲۶
علم
العلماء ورثة الانبیاء ( حدیث ) علماء پیغمبروں کے وارث ہیں ۔
اللهم ارحم خلفائی ۔ قلنا من خلفاؤك اے اللہ ، میرے خلفاء پر رحم کر ۔ صحابہ نے کہا کہ يا رسول الله ۔ قال الذين يحفظون سنتى اے خدا کے رسول ، کون لوگ آپ کے خلفاء ہیں ۔ ويعلمونها للناس ( حدیث ) آپ نے کہا کہ وہ لوگ جو میری سنت کی حفاظت کریں گے اور لوگوں کو اس کی تعلیم دیں گے ۔
ليس شئى اعزمن العلم ۔ الملوك علم سے زیادہ طاقت ور کوئی چیز نہیں ۔ بادشاہ عوام حكام على الناس والعلماء حكام علی پر حکومت کرتے ہیں اور علم والے لوگ بادشاہوں الملوك ( ابو الاسود ) پر حکومت کرتے ہیں ۔
عن عون بن عبدالله قال قلت لعمر بن عون بن عبد اللہ نے حضرت عمر بن عبدالعزیز سے کہا عبد العزيز يقال : ان استطعت ان تكون کہ کہا جاتا ہے کہ اگر تم عالم بن سکتے ہو تو بنو ۔ اگر عالم عالماً فكن ۔ فان لم تستطع فكن متعلماً ۔ فان لم نہیں بن سکتے تو طالب علم بنو ۔ اگر تم طالب علم نہیں تكن معلماً ، فاحبهم ۔ فان لم تحبهم بن سکتے تو ان سے محبت کرو ۔ اگر تم ان سے محبت ولا تبغضهم ۔ فقال عمر سبحان الله نہیں کر سکتے تو ان سے بغض نہ رکھو ۔ حضرت عمر بن لقد جعل الله له مخرجاً عبدالعزیز نے یہ سن کر کہا سبحان اللہ ۔ اس کو خدا نے راستہ دیدیا ۔
علامہ شاطبی نے لکھا ہے ۔ مستحب ، مندوب ، فرض ، اور مکروہ اور حرام کی جو تقسیمیں ہیں ، تقرب الی اللہ اور تزکیہ نفس کے سلسلے میں ان کی کوئی حیثیت نہیں ۔ کیوں کہ اصل مقصود تزکیۂ نفس ہے ، جو چیز تزکیہ نفس میں مدد دے وہی اہم ہے ، چاہے وہ مستحب ہو یا فرض ۔ اور جو بُرائی کی طرف لے جائے وہ ممنوع ہے ، خواہ وہ مکروہ ہو یا حرام ۔
شاطبي ، الموافقات ، التجاريّة الكبرىٰ ، القاهره ، جلد ۳ صفحه ۲۴ افضل العلم الورع والتفكر ( حسن بصری ) افضل علم پرہیزگاری اور غور و فکر ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1986 All issues