Al-Risala · June 1986 · page 20

اردو صحافت اور اخلاقیات

الرسالہ، جون ۱۹۸۶، صفحہ ۲۰

اردو صحافت اپنے اس مزاج کی وجہ سے محض ایک قوم کی صحافت بن کر رہ گئی ہے ۔ قومی صحافت کا اصول یہ ہوتا ہے : " میری قوم ، صحیح یا غلط " اس کے برعکس اخلاقی صحافت کا اصول یہ ہوتا ہے : " عالمی صداقت ، خواہ وہ میرے موافق ہو یا میرے خلاف " اخلاقی اعتبار سے یہ کسی صحافت کی بنیادی خامی ہے اور اردو صحافت بلا شبہ اس خامی کی بدترین مثال ہے ۔

مولانا ابوالکلام آزاد کا الہلال اور مولانا محمد علی جوہر کا ہمدرد انگریزی حکومت کے خلاف رد عمل کی پیداوار تھا۔ مولانا ثناء اللہ امرتسری کا اخبار اہل حدیث قادیانیوں ، آریہ سماجیوں اور عیسائی مشنریوں کے خلاف ایک صحافتی محاذ قائم کرنے کا دوسرا نام تھا ۔ مولانا عبد الماجد دریا بادی کا صدق مغربی تہذیب کے خلاف نوک جھونک کا صحافتی میدان تھا ۔ دہلی کے مشہور اردو صحافی مولانا محمد عثمان فارقلیط کا اصل کار نامہ یہ تھا کہ وہ ہندو فرقہ پرستوں کے خلاف تیز وتند مضامین لکھتے تھے جس کی نمائندگی مشہور فرقہ پرست اخبار پرتاپ کرتا رہا ہے ۔ وغیرہ مولانا ظفر علی خاں نے اپنے اخبار زمین دار میں ایک بار پر فخر طور پر یہ شعر چھا پاتھا ابتر ہمارے حملوں سے حالی کا حال ہے میدان پانی پت کی طرح پائمال ہے یہی موجودہ زمانہ میں تمام اردو صحافیوں کا حال رہا ہے ۔ ان میں سے ہر ایک کا ایک فرضی " پانی پت " تھا۔ ہر ایک اپنے مفروضہ پانی پت کے میدان میں اپنے خیالی دشمن کو قلمی شکست دے کر فتح کی خوشی مناتا رہا ۔

ہندوستان کی اردو صحافت کی پوری تاریخ میں ، میری معلومات کے مطابق ، اس اعتبار سے صرف ایک قابل ذکر استثنا ہے اور وہ سرسید کے تہذیب الاخلاق کا ہے ۔ تہذیب الاخلاق کو اگر چہ میں مکمل معنوں میں نہیں ، تاہم ۵۰ فی صد مثبت صحافت سمجھتا ہوں ۔ کیوں کہ تہذیب الاخلاق کی بنیاد ، دوسرے اردو جرائد کی طرح اغیار کے خلاف احتجاج پر نہ تھی ۔ بلکہ اپنی قوم کی اصلاح و تعمیر کے مثبت جذبہ پر تھی ۔

اردو صحافت میں غالباً سرسید پہلے قابل ذکر شخص ہیں جنھوں نے یہ بتایا کہ مسلمانوں کا اصل مسئلہ ان کی اپنی غفلت کا مسئلہ ہے نہ کہ دوسروں کے ظلم اور تعصب کا مسئلہ ۔ میرے اپنے الفاظ میں سرسید

‹ Previous page Next page › Contents of June 1986 All issues

Printed page