اردو صحافت اور اخلاقیات
الرسالہ، جون ۱۹۸۶، صفحہ ۲۱
کے فکر کا خلاصہ یہ تھا کہ مسلمان موجودہ زمانہ کے علوم میں پیچھے ہو گئے ہیں ، اس لیے وہ زمانی شعور میں بھی پیچھے ہیں۔ جب تک وہ زمانی شعور کے اعتبار سے زمانہ کی سطح پر نہ آجائیں وہ آج کی دنیا میں اپنے لیے باعزت مقام حاصل نہیں کر سکتے۔
میرے نزدیک یہی وہ چیز ہے جہاں سے اخلاقیات کا آغاز ہوا ہے ۔ اس دنیا میں ہر شخص یا گروہ خود اپنے کیے کو بھگتتا ہے ۔ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے : ان اللہ لا یغیر ما بقوم حتى يغيروا ما بانفسهم ۔ مولانا حالی نے اس آیت کے مفہوم کو اس طرح نظم کیا ہے :
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کو بدلنے کا یہ دنیا کے بارہ میں خدا کا قانون ہے ۔ ایسی حالت میں صحیح اخلاقی نقطہ نظریہ ہوگا کہ اپنے مسائل کی ذمہ داری خود قبول کی جائے ۔ جو چیز اپنی غفلت سے پیدا ہوئی ہے اس کی ذمہ داری خود قبول کرنے کا نام اخلاق ہے اور اپنی غفلت سے پیدا شدہ نتائج کو دوسروں کے اوپر ڈالنا ، یہی وہ چیز ہے جس کو غیر اخلاقی فعل کہتے ہیں ۔
بدقسمتی سے اکثر اردو صحافیوں کا معاملہ اس اعتبار سے بالکل مختلف نظر آتا ہے ۔ عام صحافیوں نے مسلمانوں کو یا تو اغیار کے ظلم کی مبالغہ آمیز داستانیں سنائیں جس کا نتیجہ صرف نفرت تھا۔ یا انھوں نے ماضی کی عظمت کے قصیدے پڑھے جس کا واحد ممکن انجام صرف یہ تھا کہ مسلمان جھوٹے فخر میں مبتلا ہو جائیں۔ جو چیز اپنی نہیں ہے اس کو اپنے اسلاف" کی لفظی منطق سے اپنی بنا کر فرضی طور پر خوش ہوتے رہیں ۔ مطابق واقعہ رپورٹنگ صحافتی اخلاقیات کی ایک اہم خصوصیت مطابق واقعہ رپورٹنگ ہے ۔ یعنی حالات و واقعات کو ٹھیک ویسا ہی بیان کرنا جیسا کہ وہ فی الواقع ہیں۔ اس معاملہ میں اردو صحافت سب سے زیادہ ناقابل اعتبار صحافت ہے ۔ اردو اخبارات کی رپورٹنگ نہ صرف یک طرفہ ہوتی ہے ۔ بلکہ اپنے وکیلا نہ مزاج کی وجہ سے وہ اکثر غلط بھی ہوتی ہے ۔
اردو صحافت کا بنیادی نقص یہ ہے کہ وہ دشمنوں کے ظلم کے خلاف رد عمل کے طور پر ظہور میں آئی ۔ چنانچہ پوری اردو صحافت مستقل طور پر ایک قسم کے احساس مظلومی
‹ Previous page Next page › Contents of June 1986 All issues