Al-Risala · June 1986 · page 22

اردو صحافت اور اخلاقیات

الرسالہ، جون ۱۹۸۶، صفحہ ۲۲

(Persecution complex) میں مبتلا رہتی ہے۔ اور یہ یک نفسیاتی حقیقت ہے کہ جو لوگ احساس مظلومی میں مبتلا ہوں وہ کبھی واقعات کو ہو بہو (As it is) پیش نہیں کر سکتے۔ وہ عین اپنی نفسیات کے تحت ہمیشہ واقعات کو اس طرح پیش کریں گے جس میں دوسرے لوگ ظالم کے روپ میں نظر آئیں اور خود ان کا اپنا وجود ان کی بنائی ہوئی تصویر میں مظلوم دکھائی دیتا ہو۔ احساس مظلومی میں مبتلا شخص کبھی واقعات کی غیر جانب دارانہ تحقیق نہیں کرتا۔ وہ واقعات کو سچ کی نظر سے نہیں دیکھتا بلکہ فریق کی نظر سے دیکھتا ہے۔ وہ دو طرفہ نقطہ نظر سے حالات کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ یک طرفہ طور پر پیدا ہونے والے جذبات کے تحت رائے قائم کر کے فوراً اس کے مطابق لکھنا شروع کر دیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اردو اخبارات کی رپورٹیں یا تو ایک طرفہ طور پر مسلم جذبات کو سامنے رکھ کر مرتب کی جاتی ہیں یا پھر ان میں بعض جزئی یا استثنائی واقعات کی تعمیم (Generalisation) ہوتی ہے ۔ اور یہ دونوں ہی چیزیں دیانت دارانہ رپورٹنگ کے خلاف ہیں ۔

ایک مثال

مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے ایک مارکسی پروفیسر عرفان حبیب پر یونیورسٹی کے کچھ مسلمان لڑکوں نے حملہ کیا۔ اس کے بعد دہلی کے ایک انگریزی اخبار کا رپورٹر علی گڑھ پہنچا۔ اس نے مذکورہ مارکسی پروفیسر کا انٹرویو لیا جو انگریزی روزنامہ انڈین ایکسپریس (۱۳ جنوری ۱۹۸۱) میں چھپا۔ اس انٹرویو کے چھپنے کے بعد یونیورسٹی کے مسلمان طلبہ اور زیادہ مشتعل ہو گئے۔ انھوں نے یونیورسٹی کیمپس میں توڑ پھوڑ اور او دھم بازی شروع کر دی، یہاں تک کہ یونیورسٹی بند ہونے کی نوبت آگئی۔

انھیں دنوں دلی کے ایک اردو ہفتہ وار کے ایڈیٹر ہمارے دفتر میں آئے۔ انھوں نے گفتگو کے دوران کہا کہ آج شام کو ہمارے اخبار کی کاپی پریس جا رہی ہے اور مجھے فوری طور پر علی گڑھ کے بارہ میں ایک اداریہ لکھنا ہے۔ میں نے پوچھا کہ کیا آپ نے پروفیسر حبیب کا وہ انٹرویو پڑھا ہے جس کی بنیاد پر یہ ہنگامے ہو رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ نہیں۔ میں نے کہا کہ جب آپ نے اصل انٹرویو کو نہیں پڑھا تو آپ اس کے بارہ میں اداریہ کیسے لکھیں گے۔ "ہم چپ رہیں گے تو ہم مسلم عوام سے کٹ جائیں گے" انھوں نے کہا اور باہر چلے گئے۔ ان کا اخبار میرے پاس آیا تو اس میں علی گڑھ کے بارے میں ایک پر شور اداریہ موجود تھا۔ اس کے بعد مجھے خود اس موضوع پر لکھنے کی فکر ہوئی۔ میں نے چاہا کہ سب سے پہلے میں پروفیسر

‹ Previous page Next page › Contents of June 1986 All issues

Printed page