We wish you a comfortable journey.
الرسالہ، جون ۱۹۸۶، صفحہ ۳۳
میرے اندر سفر کی طاقت نہیں رہی۔ پونہ کے لیے میرے اب تک کے سفروں کی تاریخی تفصیل یہ ہے : پہلا سفر دوسرا سفر مارچ ۱۹۸۳ تیسرا سفر ستمبر ۱۹۸۴ چوتھا سفر مارچ ۱۹۸۶ پونہ میں مختلف پروگرام تھے ۔ پچھلے سفر کے مقابلہ میں موجودہ پروگرام میں شرکاء کی تعداد کافی زیادہ تھی اس کی وجہ یہ تھی کہ اس مدت میں اللہ کے فضل سے الرسالہ کے قارئین کی تعداد بہت بڑھ گئی ہے۔ دوسرے مقررین عوامی رجحان کی رعایت سے بولتے ہیں اس لیے ان کے اجتماع کی نوعیت دوسری ہوتی ہے۔ مگر میری تقریر کا موضوع عوامی رجحان سے الگ ہوتا ہے ۔ اس لیے میرا اجتماع اس بات کا پیمانہ ہوتا ہے کہ الرسالہ کی آواز کتنی پھیلی ہے۔ پونہ کے ساتھی سب سے زیادہ زور الرسالہ کے قارئین کا حلقہ بڑھانے پر لگارہے ہیں ۔ ایک ساتھی نے کہا کہ الرسالہ تو ایسی چیز ہے کہ اس کو صرف لوگوں کو دکھانے کی ضرورت ہے، اور اس کے بعد بیشتر لوگ اپنے آپ اس کے خریدار بن جائیں گے ۔ ہمارے مشن میں اس وقت سب سے بڑا پروگرام الرسالہ کو زیادہ سے زیادہ پھیلانا ہے ۔ جو لوگ پروگرام کے طالب ہیں ان کو الرسالہ کے پڑھنے والوں کی تعداد بڑھانے میں لگ جانا چاہیے ۔ پونہ کی کل آبادی پندرہ لاکھ ہے ۔ اس میں مسلمان تقریباً ایک لاکھ ہیں ۔ ایک لاکھ کی تعداد کسی بھی کام کو کرنے کے لیے بالکل کافی ہے۔ مگر پونہ کے مسلمانوں کا حال بھی وہی ہے جو دوسرے شہروں کے مسلمانوں کا ہے۔ تعمیری کام سے زیادہ آپس کے اختلافات اور بے فائدہ مظاہروں میں اپنی طاقت ضائع کرنا ۔ اسی پونہ میں عیسائی ان سے کم تعداد میں ہو کر ان سے بہت زیادہ تعمیری کام کر رہے ہیں ۔ مگر مسلمان عین ان کے پڑوس میں پسماندگی کا نشان بنے ہوئے ہیں ۔
موجودہ زمانہ میں ساری مسلم دنیا میں نہایت زور و شور کے ساتھ بے فائدہ منفی سرگرمیاں جاری ہیں ۔ تبلیغی جماعت جیسی بعض انتہائی مستثنیٰ مثالوں کو چھوڑ کر سب کا یہی حال ہے ۔ ہر ایک کے پاس ایک جھوٹا اسلام ہے اور وہ اس کا جھنڈا اٹھا کر اپنے آپ کو نمایاں کرنا چاہتا ہے ۔ پونہ میں ایک ہندو بلڈر نے ایک اونچی عمارت بنائی جس میں بہت سے فلیٹ تھے۔ اب فوراً
‹ Previous page Next page › Contents of June 1986 All issues