We wish you a comfortable journey.
الرسالہ، جون ۱۹۸۶، صفحہ ۳۴
مسلمانوں کو یہ خطرہ لاحق ہو گیا کہ ان کے گھروں کی بے پردگی ہوگی۔ چنانچہ اس کے خلاف مہم شروع ہو گئی۔ بلڈر نے کہا کہ تمہارا فلاں لڑکیوں کا اسکول ہے وہاں خود مسلم اسکول کے مالکوں نے اسی قسم کی اونچی بلڈنگ بنائی ہے اور اس کے فلیٹ لوگوں کو کرایہ پر دیئے ہیں تو کیا اس کے ذریعہ تمہارے گرلز اسکول کی بے پردگی نہیں ہوتی۔ پھر وہاں تم اسی قسم کا ایجی ٹیشن کیوں نہیں چلاتے ۔ ایجی ٹیشن ختم ہو گیا اور بلڈنگ بدستور اپنی جگہ پر کھڑی ہوئی ہے ۔
اسی طرح پونا میں ایک مسجد ہے جس کا نام ہے " مسجد منشیان " یہ مسجد سڑک کے کنارے ہے۔ یہاں سڑک کے دوسری طرف کسی قدر فاصلہ پر ایک ہوٹل بنایا گیا ہے جس کا نام سلوران (Silver Inn) ہے۔ اس ہوٹل میں ایک پرمٹ روم (Permit room) بھی ہے۔ یعنی سرکاری لائسنس کے تحت شراب پینے کا کمرہ۔ اب مسلمانوں کو اندیشہ ہوا کہ اس سے مسجد کی بے حرمتی ہو رہی ہے۔ چنانچہ انہوں نے فیصلہ کیا کہ 26 جنوری1985 کو کاڑا دیوس (کالا دن) کے طور پر منائیں گے ۔ پوسٹر نکالے گئے۔ نعرے بلند کیے گئے۔ اور ۲۶ جنوری کو بہت سے مسلمان ہوٹل کے سامنے منڈپ ڈال کر بیٹھ گئے کہ ہم اس وقت تک بھوک ہڑتال کریں گے جب تک یہ " شراب خانہ " بند نہ کر دیا جائے ۔
کچھ مسلمان یہاں کے مراٹھی اخبار ( رتن بھارت ) کے دفتر میں گئے تا کہ وہاں اپنے اسلامی احتجاج کی خبر چھپوائیں۔ اس کے ایڈیٹر نے کہا کہ ہوٹل والوں نے تمہاری مسجد سے کافی فاصلہ پر سرکاری اجازت کے تحت شراب خانہ کھولا ہے۔ اور دوسری طرف تمہاری اس مسجد سے قریب ہی دوسری مسجد ہے اس کی عین دیواروں کے نیچے خود مسلمانوں نے بلا اجازت شراب کا دھندا کھول رکھا ہے تو تم اس کو بند کرنے کی مہم کیوں نہیں چلاتے۔ دوبارہ یہی ہوا کہ ہوٹل کا " پرمٹ روم " بدستور موجود ہے اور مسلمانوں کی احتجاجی مہم ایک دن کے شور و شر کے بعد ختم ہو گئی۔
پونا کے پہلے سفر میں میں نے ڈی نابی کالج دیکھا تھا جو عیسائیوں کا عظیم الشان ادارہ ہے۔ اس بار کے سفر میں " گیان پر بودھنی " دیکھا جو ہندو صاحبان کا بہت بڑا ادارہ ہے۔ اس طرح کے درجنوں بڑے ادارے ہیں جو یہاں دوسری قوموں نے قائم کر رکھے ہیں اور ان کے ذریعہ سے اپنی تعمیر و ترقی کے کام میں مسلسل مصروف ہیں۔ مگر مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ دیواروں کے اوپر الفاظ
‹ Previous page Next page › Contents of June 1986 All issues