We wish you a comfortable journey.
الرسالہ، جون ۱۹۸۶، صفحہ ۳۵
کی لکیریں بنا کر خوش ہو رہے ہیں۔ پونا کی کچھ گندی اور ٹوٹی ہوئی دیواروں پر " اسلامی نعرے " لکھے ہوئے نظر آئے۔ اگرچہ ان کی بدخطی زبان حال سے کہہ رہی تھی کہ مجھ کو نہ پڑھو۔ وہ نعرے یہ تھے : اٹھو نوجوانو ، اسلام کو تمہاری ضرورت ہے ، شریعت خطرے میں ہے یکساں سول کوڈ مردہ باد ، شریعت زندہ باد۔ ہمیں چاہیے شریعت کورٹ ایک لیڈر صاحب سے میں نے کہا کہ اس قسم کے نعروں اور پوسٹروں سے کیا فائدہ۔ انھوں نے جواب دیا کہ یہ تو کچھ نو جوانوں نے کیے ہیں۔ میں نے کہا کہ نو جوانوں نے اس لیے کیا ہے کہ لیڈر صاحبان ان کی سرپرستی فرما رہے ہیں۔ ایک سیدھے سادے تاجر اس وقت ہمارے ساتھ تھے۔ انھوں نے کہا آپ بالکل درست کہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اوپر والے حمایت کرتے ہیں تبھی نیچے والوں کو کرنے کی ہمت ہوتی ہے۔ اوپر والے اگر شوشہ نہ چھوڑیں تو نیچے والے بالکل ٹھیک رہیں گے۔
گیان پر بودھنی ( پونا ) ایک بہت بڑا ادارہ ہے۔ یہ لوگ نہایت خاموش کام میں مصروف ہیں۔ وہ حکومت سے کوئی امداد نہیں لیتے ۔ ان کا بہت بڑا بجٹ ہے مگر اس کا کچھ حصہ قومی چندوں سے پورا ہوتا ہے اور کچھ ان کے اپنے صنعتی اور زراعتی شعبوں سے آتا ہے ۔ ان کے مختلف کام ہیں۔ مثلاً ایک کام یہ ہے کہ وہ اعلیٰ صلاحیت کے ہندو نوجوانوں کو منتخب کر کے انھیں آئی اے ایس (I.A.S) کے امتحان کے لیے تیار کرتے ہیں۔ یہی لوگ بعد کو حکومت کے کلیدی مناصب پر قبضہ کرتے ہیں۔ اور اس طرح وہ پورے انتظامیہ کو اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں۔ پھر اسی ادارہ سے آر ایس ایس جیسی تنظیموں کو بھی اعلیٰ کارکن مل رہے ہیں ۔ وغیرہ گیان پر بودھنی کی کئی منزلہ بلڈنگ میں نیچے کے حصے میں ایک بڑا ہال ہے ۔ اس میں ہر صبح کو اس کے تمام اساتذہ اور طلبہ اور کارکن جمع ہوتے ہیں اور پوجا اور پرارتھنا کرتے ہیں۔ ہال کی ایک دیوار پر پورے بھارت (ہندوستان) کی ایک تصویر بنی ہوئی ہے۔ اسی کو سامنے رکھ کر وہ اپنے مراسم ادا کرتے ہیں۔ اس تصویر کے نیچے مراٹھی زبان میں لکھا ہوا ہے :
ماتر بھومی ہی خدا ہے۔ اسی کی ہمیں پوجا کرنا ہے ۔
یہ گویا آر ایس ایس کا کلمہ ہے۔ اس سے آپ آر ایس ایس کی تحریک کی حقیقت سمجھ سکتے ہیں۔ یہ دراصل " بھارت " کی برتری کے تصور پر اٹھی ہے۔ حتیٰ کہ انھوں نے " ’’بھارت‘‘ " کو مقدس معبود کا درجہ دیدیا
‹ Previous page Next page › Contents of June 1986 All issues