We wish you a comfortable journey.
الرسالہ، جون ۱۹۸۶، صفحہ ۳۷
پونہ میں ایک ہندو ادارہ ہے جس کا نام ہے سادھو آسوانی مشن ۔ وہ مختلف قسم کے علمی کام کرتے ہیں۔ مثلاً ان کے ایک منصوبے کا نام ہے : (Life Beyond Project) یہ پروجیکٹ گویا آداگن کے نظریہ کو عقلی اور سائنسی طور پر ثابت کرنے کی ایک منظم کوشش ہے۔ یہ کام وہ عالمی سطح پر انجام دے رہے ہیں۔ اسی طرح پونہ میں ایک ادارہ (بنت و کھیان مالا) ہے جو ہر سال چھٹیوں کے موسم (ماہ مئی) میں ایک مہینہ تک ہر روز مذہبی اور تاریخی موضوعات پر لیکچر کراتا ہے۔ اس کے لیے سارے ملک سے اعلیٰ قامِلیت کے لوگ بلائے جاتے ہیں۔ اس میں داخلہ کے لیے ٹکٹ ہواتا ہے جس کو ہر آدمی قیمت دے کر خریدتا ہے۔ اس کے باوجود بڑا ہال آخری حد تک بھرا ہوتا ہے ؛ و غیرہ وغیرہ ۔
ہندو قوم کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ ہر رخ پر کام کرتی ہے۔ اس کے کچھ افراد اگر ایک کام کرتے ہیں تو اس کے دوسرے افراد دوسرے کام کو سنبھال لیتے ہیں۔ مثلاً گاندھی جی نے سودیشی کپڑے کے بائیکاٹ (۱۹۲۱) کی مہم چلائی تو ہندوؤں کے ساتھ مسلمان بھی اس مہم میں پوری طرح شریک تھے ۔ مگر ہندوؤں نے اگر ایک طرف لنکاشائر اور مانچسٹر کے کپڑے جلائے تو دوسری طرف سیکڑوں کی تعداد میں ملک کے اندر کپڑے کی ملیں بھی قائم کر دیں۔ جب کہ مسلمان صرف باہر کے کپڑے جلاتے رہے اور انھوں نے کپڑے کی ایک بل بھی قائم نہ کی۔
یہی انداز پوری جدید تاریخ میں مسلمانوں کا نظر آتا ہے حتیٰ کہ اب ان کا مزاج ایسا ہو گیا ہے کہ تخریب کے کام کے لیے انھیں نہایت آسانی سے بھڑکایا جا سکتا ہے ۔ مگر تعمیر کے کام کے لیے پکارا جائے تو وہ ایسے بن جاتے ہیں جیسے کہ انھوں نے کچھ سنا ہی نہیں ۔
اسی صورت حال کا یہ نتیجہ ہے کہ ہمارے یہاں جو آدمی مقبولیت چاہتا ہے وہ فورا ایک منفی نعرہ لے کر کھڑا ہو جاتا ہے ۔ اور اس کے بعد یہ کریڈٹ وصول کرتا ہے کہ اس نے عظیم الشان اسلامی اتحاد قائم کر دیا ہے۔ مثبت پروگرام کے لیے اٹھنا اپنی قیادت کو کھونے کی قیمت پر ممکن ہے جس کا ایک نمونہ موجودہ زمانہ میں فرانس کے چارلس ڈیگال نے پیش کیا ہے ۔ مگر ہمارے درمیان کوئی " ڈیگال " نہیں ۔ اسی لیے ہمارے درمیان ابھی تک یہ ممکن نہ ہو کہ کوئی قائد خود مرکر قوم کو نئی زندگی عطا کر دے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1986 All issues