Al-Risala · June 1986 · page 41

The person behind that is someone else.

الرسالہ، جون ۱۹۸۶، صفحہ ۴۱

بھی چلائی جاتی رہے ۔

ایک اجتماع میں ایک صاحب نے سوال کیا کہ آپ ہمارے قائدین پر تنقید کرتے ہیں ۔ حالاں کہ مسلم پرسنل لا کے مسئلہ پر انھوں نے حال میں جو تحریک چلائی اُس نے نہایت شاندار اسلامی اتحاد پیدا کر دیا ہے ۔ میں نے کہا کہ ہاں سفر سے پہلے دہلی میں مجھے ایک اخبار (۱۰ مارچ ۱۹۸۶ ) ملا تھا ۔ اس کے اداربے کی سُرخی تھی " ملت کا بے نظیر اتحاد " ، اس کے بعد اس حلقہ کے ایک بزرگ سے میری ملاقات ہوئی ۔ میں نے مذکورہ اخبار دکھا کر ان سے پوچھا کہ یہ بے نظیر اتحاد کہاں واقع ہے ۔ جلسہ جلوس کے مظاہروں میں یا مسلمانوں کی اپنی زندگیوں میں ۔ اس سوال پر مذکورہ بزرگ بگڑ گئے ۔ میں نے کہا کہ یہ پہلا ثبوت ہے کہ اسلامی اتحاد ابھی ظہور میں نہیں آیا ہے ۔ کیوں کہ اسلامی اتحاد حقیقۃً اپنی یہ اتحادِی کو ختم کرنے کا نام ہے ۔ اسلامی اتحاد ایک شعوری حالت ہے ، یہ شعوری حالت کہ قوم کے افراد اختلاف کے باوجود متحد ہو کر رہنا سیکھ لیں۔ مگر آپ نے ایک سیدھے سے سوال پر خفا ہو کر یہ ثبوت دیا ہے کہ آپ اس شعوری حالت کو ابھی نہیں پہونچے ۔

پھر میں نے کہا کہ جو چیز وقوع میں آئی ہے وہ صرف بھیڑ بھاڑ ہے ۔ مگر آپ لوگ غلط فہمی سے اس کو اتحاد سمجھ رہے ہیں ۔ اگر آپ لوگ یہ جملہ بولیں کہ " بے نظیر بھیڑ بھاڑ " تو مجھے کوئی اختلاف نہ ہوگا ۔ مگر جب آپ اس کو " بے نظیر اتحاد " کا نام دیں تو میں کہوں گا کہ بطور واقعہ یہ بیان صحیح نہیں ۔ مختلف نوجوانوں نے آٹوگراف کے لیے کہا۔ ایک صاحب کو میں نے لکھا :

کسی چیز کو پانے کے لیے صرف یہ کافی نہیں کہ آدمی اس چیز کا طالب ہو ۔ ہر چیز کی ایک قیمت ہے اور آدمی جب تک اس کی مطلوبہ قیمت ادا نہ کرے وہ اس دنیا میں اپنی مطلوبہ چیز کو نہیں پا سکتا ۔

ایک صاحب نے نصیحت کے لیے کہا۔ میں نے کہا :

مصیبتیں با اُصول زندگی کی قیمت ہیں ۔

کچھ نوجوانوں سے میں نے کہا :

جو آپ کے دل میں ہے وہی زبان سے بولیے ۔ جو کچھ آپ اپنے لیے پسند کرتے ہیں وہی دوسرے کے لیے پسند کیجیے ۔ انسان سے معاملہ کرتے ہوئے یہ سمجھیے کہ آپ خدا سے معاملہ

‹ Previous page Next page › Contents of June 1986 All issues

Printed page