Al-Risala · June 1986 · page 42

The person behind that is someone else.

الرسالہ، جون ۱۹۸۶، صفحہ ۴۲

کر رہے ہیں ۔

ایک صاحب نے کسی کا مقولہ بتایا جو قابلِ نقل ہے :

In everything look before you leap. But in charity leap before you look. دوسری ہر چیز میں اقدام سے پہلے سوچو۔ مگر خیر کے کام میں پہلے اقدام کرو ، اس کے بعد سوچو ۔ ایک صاحب ایران میں کچھ سال رہ کر واپس آئے تھے۔ انھوں نے بہت سی مثالیں دے کر بتایا کہ جدید فارسی اور قدیم فارسی میں زبان کے اعتبار سے کافی فرق پیدا ہو چکا ہے۔ مثلاً بلے کو وہ لوگ بالے کہتے ہیں ۔ ہم لوگ کہتے ہیں کہ تکلف نہ کیجئے وہ لوگ کہتے ہیں : تعارف مکن (تکلف نہ کیجئے) تکلف کو وہ لوگ تکلیف کے معنی میں استعمال کرتے ہیں ، وغیرہ ۔

۲۲ مارچ ۱۹۸۶ کی شام کو میں پونہ سے واپس آیا ۔ جہاز کے اندر انڈین ایکسپریس کا مدراس ایڈیشن پڑھنے کو ملا۔ اس کے صفحہ ۳ پر ایک دلچسپ خبر یہ تھی کہ ۲۱ مارچ کو مدراس اسمبلی کا اجلاس تھا۔ بجٹ پر تقریریں ہو رہی تھیں ۔ کانگریس آئی کے ایک ممبر مسٹر اے ارو موگم کھڑے ہوئے تو انھوں نے دوران تقریر ہندی زبان کو ریاست میں ترقی دینے پر زور دیا۔ وہ انگریزی میں اپنے خیالات کا اظہار کر رہے تھے : When Finance Minister Nedunchezhiyan asked the member if he had any knowledge of Hindi, he replied:

chota chota maloom hai. (I know a little)

جب وزیر مالیات نے مذکورہ ممبر سے پوچھا کہ کیا وہ کچھ ہندی جانتے ہیں۔ انھوں نے جواب دیا : چھوٹا چھوٹا معلوم ہے ( چھوٹا اٹھوڑا معلوم ہے )

معزز ممبر کے ذہن میں انگریزی کا لفظ (Little) تھا ۔ اسی کا ہندی ترجمہ کر کے انھوں نے کہہ دیا کہ ہاں ، چھوٹا چھوٹا معلوم ہے ۔ حالاں کہ ہندی میں اس کے لیے صحیح لفظ تھوڑا ہے نہ کہ چھوٹا۔ آدمی جو کچھ بولتا ہے ، اکثر وہ اس کے اپنے ذہن کی ترجمانی ہوتی ہے۔ مگر وہ بطور خود یہ سمجھ لیتا ہے کہ وہ خارجی حقیقت کی ترجمانی کر رہا ہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1986 All issues

Printed page