The person behind that is someone else.
الرسالہ، جون ۱۹۸۶، صفحہ ۲۵
انسان کے ساتھ خدا کا معاملہ کہ میرے ہر عمل کا جواب اسے دینا ہے۔ کاش میں کوئی ایسی چیز ہوتا کہ خدا مجھ سے کچھ نہ پوچھتا۔ بس اس کے بڑے ہونے کا سہارا ہے کہ وہ بخشے گا میرے گناہ کو، اور وہی بچائے گا جہنم کے عذاب سے۔
( حبیب بھائی، حیدر آباد )
۱۱۔ والدین اور استادوں کی رہبری سے محروم ہونے کے بعد بڑی تنہائی محسوس کر رہا تھا اور زندگی ایک تپتے ریگستان و صحرا کا سفر معلوم ہو رہی تھی اور ہر طرف ایک سراب۔ لیکن اس عرصہ میں آپ کی تصنیفات 'الرسالہ' کے مضامین میرے لیے ایک بڑے سایہ دار درخت ثابت ہوئے اور میں اس سفر سے تھکا ہوا آرام سے آپ کی شفیق چھاؤں تلے بیٹھ کر پھر تازہ دم اٹھ کھڑا ہوتا ہوں ۔ نیا عزم ، ایک حوصلہ ، ایک سنت ، ایک مہربانی ، ایک خلوص ، ایک سچائی اور رہبری پاتا ہوں ۔ جس طرح روزانہ خوراک ضروری ہے اسی طرح الرسالہ ضروری روحانی خوراک بن چکا ہے ۔ حوصلہ مند زندگی و توانا ئی کے لیے ۔
۱۲۔ آپ کے یہاں سے رخصت ہونے کے بعد ڈاکٹر صاحب جنھوں نے آپ کے جلسہ کی صدارت فرمائی تھی ان سے میری ملاقات ہوئی ۔ انھوں نے کہا مجھے میری زندگی میں پہلی بار ایسے مولانا سے ملنے کا اتفاق ہو ا جو علم جدید پر بھی گہرائی سے نظر رکھتے ہیں اور جدید اسلوب میں پیغمبر انقلاب جیسی گراں قدر تصنیف امت مسلمہ کو پیش کرتے ہیں ۔ یہ بڑے فخر کی بات ہے آپ نے جامع مسجد میں بروز جمعہ بعد نماز عشار سورہ " الم نشرح " پر اپنے جو زرین خیالات پیش کیے تو لوگوں کی طبیعت بعد تقریر ختم ہونے پر بھی اٹھنے کو نہیں چاہ رہی تھی۔ خود میری بھی یہی حالت تھی حالاں کہ میں آپ کے ساتھ کئی سالوں سے ہوں ۔ الرسالہ ( اپریل ۱۹۸۶ ) آج ہی ملا ۔ صفحہ نمبر - ۱ پر عورت کے بارہ میں پڑھا تو میرا دل اچھلنے لگا جسے آپ انگریزی میں تھرل کہتے ہیں۔ بس ایسی ہی کیفیت گزری۔ اگر لوگوں کا مجھے پاگل سمجھنے کا خدشہ نہ ہوتا تو میں ضرور دکان بند کر کے ناچنا شروع کر دیتا ۔ سچ مچ آج تک ایسی قرآن کی تشریح پڑھنے میں نہیں آئی۔ جس کسی نے بھی یہ مضمون پڑھا متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ میں یہ بات محض اپنی عقیدت مندی کی وجہ سے نہیں لکھ رہا ہوں اور نہ ہی آپ کا ضیسرا
‹ Previous page Next page › Contents of June 1986 All issues