اسلام اور سائنس
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۶، صفحہ ۱۸
اسلام اور سائنس
اس مختصر مقالہ میں مجھے اس سوال کی تحقیق کرنی ہے کہ مسلمان موجودہ زمانہ میں سائنس کی تعلیم میں پیچھے کیوں ہو گئے۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ مسلمان سائنس کی تعلیم میں اس لیے پیچھے ہیں کہ ان کا مذہب سائنس کی تعلیم کا مخالف ہے ، یا کم از کم اس کو پسند نہیں کرتا۔ مگر یہ بات حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی۔ قرآن میں کثیر تعداد میں ایسی آیتیں موجود ہیں جن میں مختلف طریقوں سے اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ زمین و آسمان کی چیزوں پر غور کرو۔ پھر کیسے ممکن تھا کہ اسلام کے ماننے والے زمین و آسمان کی چیزوں کا مطالعہ نہ کریں جس کا دوسرا نام سائنس ہے۔ اسلام کے نزدیک کائنات کے مطالعہ کا سب سے پہلا فائدہ معرفت ہے ۔ یعنی مخلوق کے اندر خالق کا مشاہدہ کرنا۔ تاہم جب لوگ کائنات کو قابل غور سمجھ کر اسے دیکھتے ہیں تو اسی سے وہ چیز بھی برآمد ہوتی ہے جس کو سائنس کہا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ مسلمانوں کی اپنی تاریخ بھی اس کی تردید کرتی ہے۔ کیوں کہ تاریخ سے یہ ثابت ہے کہ ابتدائی دور کے مسلمانوں نے سائنس کے شعبوں میں زبردست ترقی کی۔ حتیٰ کہ جس زمانہ میں یورپ کی قوموں نے سائنس کی راہ میں ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھایا تھا اس وقت مسلمان سائنس کی راہ میں شاندار ترقیاں حاصل کر چکے تھے۔ برٹرینڈ رسل نے اس حقیقت کا اعتراف ان الفاظ میں کیا ہے کہ ۶۵۰ سے ۱۴۰۰ء تک کے دور کو ہم تاریک دور کہتے ہیں۔ یہ مغربی یورپ کو غیر واقعي اهمیت دینا ہے ۔ اسی زمانہ میں چین میں تنگ کی حکومت تھی جو کہ چینی شاعری کا اہم ترین دور ہے ۔ اور کئی دوسرے پہلوؤں سے بہت اہم دور ہے ۔ اسی زمانہ میں ہندوستان سے لے کر ۔ اسپین تک اسلام کی شاندار تہذیب چھائی ہوئی تھی ۔ اس زمانہ میں جو چیز مسیحیت کے لیے کھوئی ہوئی تھی وہ تہذیب کے لیے کھوئی ہوئی نہ تھی بلکہ اس کے برعکس تھی :
‹ Previous page Next page › Contents of July 1986 All issues