Al-Risala · January 1986 · page 32

حکمتِ اسلام

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۶، صفحہ ۳۲

غیر مبدل ہے۔ ناسخ اور منسوخ یک مستقل شرعی اصول ہے۔ اس کا تعلق اس اہم چیز سے ہے جس کو عملی حکمت (Practical wisdom) کہا جاتا ہے۔ اور وہ پورے دین سے متعلق ہے نہ کہ محض چند احکام سے متعلق۔ اس اصول کے تحت کبھی ایک حکم میں تدریج کا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ شراب کے معاملہ میں کیا گیا۔ چنانچہ شراب کو تین مرحلہ میں حرام قرار دیا گیا۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ حالات کی رعایت سے ایک طرح کا حکم مطلوب ہوتا ہے اور کبھی بدلے ہوئے حالات کے اعتبار سے دوسرا حکم مطلوب ہو جاتا ہے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول کا مطلب یہ ہے کہ داعی کو یہ فریضہ انجام دینا ہوتا ہے کہ وہ اسلام کے تقاضوں کو وقت کے عملی حالات پر منطبق کرے۔ وہ لوگوں کو عین تقاضائے وقت کے مطابق صحیح دینی مشورہ دے، اب جو شخص ناسخ اور منسوخ ، بالفاظ دیگر دین کی عملی حکمتوں اور مصلحتوں کو جانے گا وہی شخص لوگوں کو صحیح رہنمائی دے سکتا ہے۔ جو شخص دین کے حکیمانہ پہلو کو نہ جانے وہ دین کے نام پر بے دینی کی بات کرے گا۔ وہ لوگوں کو غلط راہوں میں دوڑانا شروع کر دے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی حکمتِ اسلام کا نہایت عظیم اور کامل نمونہ ہے۔ آپ نے مکہ میں صبر کے اصول پر عمل کیا اور مدینہ میں دفاع اور قتال کے اصول پر۔ یہ بھی نسخ ہی کا ایک معاملہ تھا۔ یعنی مکہ کے حالات کے تحت وہاں آپ کے لیے صبر کا حکم تھا۔ ہجرت کے بعد مدینہ کے حالات کے تحت صبر کا حکم منسوخ ہو گیا اور دفاع اور قتال کا حکم دے دیا گیا۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ صبر کا اصول ہمیشہ کے لیے متروک اور منسوخ ہو گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ صبر ایک اصولی حکم کے طور پر بدستور باقی ہے اور جب بھی اور جہاں بھی مکہ جیسے حالات پائے جائیں گے صبر کا حکم وہاں دوبارہ اسی طرح مطلوب ہو جائے گا جس طرح وہ ابتدائے مکی دور میں مطلوب تھا۔

اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد میں مدینہ سے باہر نکل کر مقابلہ کیا اور غزوہ خندق میں مدینہ میں رہ کر مقابلہ فرمایا۔ بدر کے موقع پر آپ نے اپنے دشمنوں سے جنگ کی اور حدیبیہ کے موقع پر انھیں دشمنوں سے ایک طرفہ شرائط پر صلح کر لی۔ غزوہ حمراء الاسد میں آپ نے اعلان و اظہار کے ساتھ سفر کیا اور فتح مکہ کے موقع پر کامل خاموشی کے ساتھ سفر کیا گیا۔ حجۃ الوداع میں آپ نے اعلان فرمایا کہ ایک انسانی گروہ کو دوسرے انسانی گروہ پر کوئی فضیلت نہیں۔ مگر اپنے بعد خلافت

‹ Previous page Next page › Contents of January 1986 All issues

Printed page