حکمتِ اسلام
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۶، صفحہ ۳۳
کے لیے آپ نے ہدایت فرمائی کہ امیر المومنین صرف قبیلہ قریش میں سے بنایا جائے ۔ ایک قسم کے باغیوں کے لیے قرآن میں آپ کو حکم دیا گیا کہ ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ وہ اطاعت قبول کرلیں (تقتلوا عنهم او يسلمون)، دوسری طرف آپ کی ہدایت کے مطابق خلیفہ سوم حضرت عثمان نے اپنے باغیوں کے خلاف ہاتھ نہیں اٹھایا ، یہاں تک کہ بلا مقابلہ شہید ہو گئے۔ ایک طرف آپ نے فرمایا کہ افضل الجهاد كلمة حق عند سلطان جائر ۔ دوسری طرف آپ نے اپنے صحابہ کو شدت سے یہ تلقین کی کہ میرے بعد تمہارے اوپر ظالم حکمران ہوں گے مگر تم ان کے خلاف جنگ نہ کرنا۔ و غیرہ و غیره ۔ جو شخص دعوت و اصلاح کے کام کے لیے اٹھے اس کو ناسخ اور منسوخ کے اس شرعی حکم سے باخبر ہونا چاہیے۔ اس کو اس حکمت بالغہ کو اچھی طرح جاننا چاہیے جس کے تحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طرح کے حالات میں ایک طریقہ اختیار فرمایا ، اور دوسری طرح کے حالات میں اس کو چھوڑ کر دوسرے طریقہ پر عمل کیا۔
جو شخص اس راز سے واقف نہ ہو اور اس کے باوجود وہ خطیب اور قائد بن کر کھڑا ہو جائے وہ اصلاح کے نام پر صرف بگاڑ پیدا کرے گا۔ مثلاً وہ لوگوں کو ایک مسلم حکمران سے ٹکراؤ پر ابھارے گا۔ جب کہ اسلام کا حقیقی تقاضا اس وقت یہ ہوگا کہ سیاسی ٹکراؤ سے الگ رہ کر کام کیا جائے۔ وہ ایک مسلم گروہ کو یہ مشورہ دے گا کہ وہ اپنی حریف قوم کو نقصان پہونچا کر اس سے اپنے لیے زندگی کا حق وصول کریں جب کہ اسلامی حکمت اس وقت یہ چاہتی ہوگی کہ حریف قوم کے لیے نفع بخش بن کر اس کے درمیان اپنے لیے عزّت کی جگہ حاصل کی جائے۔
ایسا شخص مسلم نوجوانوں کو پر جوش طور پر تلقین کرے گا کہ تم خالد سیف اللہ بنو جب کہ حالات پکار رہے ہوں گے کہ مسلم نوجوانوں کو داعی الی اللہ بننے پر ابھارا جائے ۔ وہ مسلمانوں کو اسلام پر فخر کرنا سکھائے گا جب کہ باعتبار واقعہ اصل ضرورت یہ ہوگی کہ مسلمانوں کے اندر تواضع والا اسلام پیدا کیا جائے۔ وہ اقدام و اظہار کی بات کرے گا جب کہ حالات کا تقاضا ہوگا کہ مسلمانوں سے وہ بات کہی جائے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ میں مطالبہ اظہار پر حضرت عمر فاروق سے فرمائی تھی : یا عمر انا نقتل (اے عمر، ہم تھوڑے ہیں)
ایسے لوگ صبر کے حالات میں ٹکراؤ کی سیاست چلائیں گے۔ جہاں چپ رہنا چاہیے وہاں
‹ Previous page Next page › Contents of January 1986 All issues