Universal in content and rational in thought
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۶، صفحہ ۲۰
خط و کتابت چیف جسٹس کا ریمارک محمد احمد - شاہ بانو کیس (کریمل اپیل نمبر103- 1981- مورخہ ۲۳ اپریل ۱۹۸۵) میں فیصلہ دیتے ہوئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس وائی ۔ وی ۔ چندرا چوڑ نے ایک خصوصی نوٹ لکھا ہے۔ اس نوٹ میں وہ کہتے ہیں کہ عام دیوانی اور فوجداری قانون کے تحت کچھ سوالات پیدا ہوتے ہیں یہ سماج کے ایک بڑے حصے کے لیے دور رس اہمیت کے حامل ہیں جو کہ روایتی طور پر غیر منصفانہ سلوک کا شکار رہا ہے۔ عورتیں اسی قسم کا ایک حصہ ہیں۔ قانون ساز منو نے کہا کہ عورت آزادی کی مستحق نہیں ۔ اور اسلام پر یہ الزام ہے کہ اس کا ایک تباہ کن پہلو عورت کو کمتر درجہ دینا ہے۔ پیغمبر اسلام کی طرف یہ قول منسوب کیا گیا ہے، امید افزا طور پر غلطی سے ، کہ عورت ایک ٹیڑھی پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور اگر تم اس کو سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو وہ ٹوٹ جائے گی ۔ اس لیے تم اپنی بیویوں سے نرم سلوک کرو :
Some questions which arise under the ordinary civil and criminal law are of a far-reaching significance to large segments of society which have been traditionally subjected to unjust treatment. Women are one such segment. "Na stree swatantramarhati" said Manu, the law giver: The woman does not deserve independence: And, it is alleged that the 'fatal point in Islam is the degradation of woman'. To the Prophet is ascribed the statement, hopefully wrongly, that 'Woman was made from a crooked rib, and if you try to bend it straight, it will break; therefore treat your wives kindly. واضح ہو کہ چیف جسٹس صاحب کی مذکورہ عبارت میں " امید افزا طور پر غلطی سے " کا مطلب یہ نہیں ہے کہ موصوف کے نزدیک پیغمبر کی طرف اس قول کو منسوب کرنا غلط ہے ۔ ان کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر نے اگر چہ یہ کہا ہے کہ عورت " ٹیڑھی پسلی " سے پیدا کی گئی ہے ۔ مگر جو لوگ عورت
‹ Previous page Next page › Contents of July 1986 All issues