Al-Risala · July 1986 · page 41

Universal in content and rational in thought

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۶، صفحہ ۴۱

اور مرد کے درمیان برابری قائم کرنا چاہتے ہیں ، ان کو اس سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ ہمارے لیے امید کا پہلو یہ ہے کہ پیغمبر کا یہ ارشاد بطور واقعہ درست نہیں۔ چیف جسٹس کے اس فقرہ کا مقصد " بیان" کی تردید ہے نہ کہ خود " انتساب " کی تردید ۔

ایک چیف جسٹس کا یہ ریمارک خالص قانونی اعتبار سے کس حد تک با موقع ہے۔ اس کے بارہ میں کوئی قانون داں ہی قطعی رائے دے سکتا ہے ۔ تا ہم یہ یقینی ہے کہ وہ خالص علمی اعتبار سے صحیح نہیں ۔

چیف جسٹس صاحب نے پیغمبر اسلام کا یہ قول اس دعویٰ کی تائید میں پیش کیا ہے کہ اسلام سماج کے ایک طبقہ (عورت) کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کی حمایت کرتا ہے۔ حالاں کہ مذکورہ قول اس کے برعکس ، عورت کے ساتھ منصفانہ سلوک کی تاکید کر رہا ہے ۔ محترم چیف جسٹس کا ریمارک منو کے قول کے لیے تو ضرور درست ہے۔ مگر وہ پیغمبر اسلام کے قول پر بالکل صادق نہیں آتا ۔ مذکورہ قول رسول میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ عورت کے ساتھ نرمی (خیر کا سلوک کرو۔ پھر اس حدیث کے بارہ میں کس طرح یہ دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ اس میں عورتوں کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک یا کمتر درجہ کا برتاؤ کرنے کی تلقین کی گئی ہے (جیسا کہ منو کے حوالے میں پایا جاتا ہے) جہاں تک عورت کے پسلی کی مانند ہونے کا تعلق ہے ، وہ عورت کے ساتھ بہتر سلوک کی توجیہہ کے طور پر ہے نہ کہ بہتر سلوک کی تردید کے طور پر ۔ اس کے بارہ میں اوپر یہ وضاحت کی جاچکی ہے کہ یہ محض ایک مثال ہے ۔ عورت کی مخصوص نفسیات کی بنا پر اس کے معاملہ کو پسلی سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس سے نرم سلوک کرو۔ اگر تم عورت کے ساتھ سخت سلوک کروگے تو یہ عورت کی فطرت کے مطابق نہ ہوگا ، اس سے بگاڑ پیدا ہوگا نہ کہ اصلاح ۔ خلاصه سورہ نساء کی آیت (خلق منھا زوجھا) کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے جس جنس سے آدم کو بنایا ، اسی جنس سے اس نے آدم کے جوڑے (حوا) کو بھی بنایا تا کہ دونوں میں موافقت رہے۔ اگر ایسا ہوتا کہ دونوں دو الگ الگ جنس ہوتے ، مثلاً ایک آگ سے بنایا جاتا اور دوسرا مٹی سے ، تو دونوں کے درمیان باہمی توافق نہ ہوتا۔ پھر نہ خاندانی زندگی میں سکون پایا جاتا اور نہ یہ ممکن ہوتا کہ دونوں

‹ Previous page Next page › Contents of July 1986 All issues

Printed page