Al-Risala · January 1986 · page 34

حکمتِ اسلام

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۶، صفحہ ۳۴

بھی ہلاک کیا۔

موجودہ زمانہ کے مسلم قائدین تقریباً سب حضرت علی ؓ کے اس قول کے مصداق ثابت ہوئے ہیں، وہ ’’ ناسخ اور منسوخ‘‘ کی حقیقت سے بے خبر تھے۔ چنانچہ جہاں ناسخ پر عمل کرنا تھا وہاں انھوں نے منسوخ پر عمل کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انھوں نے ایسے ایسے اقدامات کیے جو غیر حکیمانہ ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کے لیے صرف بربادی کا سبب بنے۔

۱۸۵۷ء میں علماء ہند کا انگریزوں سے جنگ کرنا بھی اسی کی ایک مثال ہے۔ علماء کے اس فیصلہ کے مطابق ہزاروں مجاہدین تھانہ بھون (سہارن پور) میں جمع ہوگئے، اور انگریزوں کے خلاف مسلح جہاد کی باتیں ہونے لگیں۔ اس وقت صرف ایک عالم (مولانا شیخ محمد صاحب) اس مہم کے مخالف تھے۔ اس سلسلہ میں مولانا حسین احمد مدنی نے اپنی سوانح عمری میں لکھا ہے :

’’قصبہ تھانہ بھون میں میاں جی صاحب کے تیسرے خلیفہ مولانا شیخ محمد صاحب رہتے تھے۔ مولانا شیخ محمد صاحب علوم عربیہ کے باقاعدہ فاضل تھے۔ اس بنا پر مسائل شرعیہ میں ہر دو حضرات مولانا شیخ محمد صاحب ہی کا اتباع کرتے تھے۔ بدقسمتی سے مولانا کی رائے یہ تھی کہ انگریزوں کے خلاف جہاد کرنا ہم مسلمانوں پر فرض تو درکنار موجودہ احوال میں جائز ہی نہیں۔ اس اختلاف کی بنا پر مولانا رشید احمد صاحب اور مولانا محمد قاسم صاحب کو ان کے اوطان سے دونوں حضرات نے بلوایا۔ جب ہر دو حضرات پہونچ گئے تو ایک اجتماع میں اس مسئلہ پر گفتگو ہوئی۔ مولانا قاسم نانوتوی رحمتہ اللہ علیہ نے نہایت ادب سے مولانا شیخ محمد صاحب سے پوچھا کہ حضرت کیا وجہ ہے کہ آپ ان دشمنان دین و وطن پر جہاد کو فرض بلکہ جائز بھی نہیں فرماتے ۔ تو انھوں نے جواب دیا کہ ہمارے پاس اسلحہ اور آلات جہاد نہیں ہیں ہم بالکل بے سروسامان ہیں۔ مولانا نانوتوی نے عرض کیا کہ کیا اتنا بھی سامان نہیں ہے جتنا کہ غزوہ بدر میں تھا۔ اس پر مولانا شیخ محمد صاحب مرحوم نے سکوت فرمایا۔ ‘‘ (نقش حیات ، جلد دوم ۱۹۵۴ء، صفحه ۴۱)

‹ Previous page Next page › Contents of January 1986 All issues

Printed page