Al-Risala · January 1986 · page 35

حکمتِ اسلام

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۶، صفحہ ۳۵

مولانا شیخ محمد صاحب کی رائے نہایت درست تھی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ۱۸۵۷ کے مقابلہ کو بدر کے مقابلہ پر قیاس کرنا بالکل صحیح نہ تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ غزوہ بدر کے موقع پر مسلمانوں اور ان کے مخالفوں کے درمیان جو فرق تھا وہ باعتبار کمیت (Quantity) تھا۔ جبکہ ۱۸۵۷ کی جنگ کے موقع پر مسلمانوں اور ان کے مخالفین کے درمیان فرق باعتبار کیفیت (Quality) پایا جارہا تھا۔ یعنی بدر کے موقع پر تلوار کا مقابلہ تلوار سے تھا۔ جبکہ ۱۸۵۷ کے موقع پر تلوار کا مقابلہ بندوق بالفاظ دیگر دستی ہتھیار کا مقابلہ دور مار ہتھیار) سے تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بدر کے مقابلہ میں مسلمانوں کو کامیابی ہوئی اور ۱۸۵۷ میں مخلص اور متقی مسلمانوں کی بے پناہ قربانیوں کے باوجود انہیں شکست ہوئی۔ اس معاملہ کو مزید سمجھنے کے لیے غزوہ حنین اور غزوہ طائف کا مطالعہ کیجئے۔ فتح مکہ کے فوراً بعد یہ دونوں غزوات پیش آئے۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ دونوں غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو الگ الگ طریقے اختیار فرمائے۔ حنین کے موقع پر آپ نے مخالفین سے باقاعدہ جنگ کی۔ اس کے برعکس طائف کے موقع پر صورت حال کا اندازہ کرنے کے بعد آپ لڑائی کیے بغیر واپس چلے آئے۔ قریش کے بعد عرب میں دو بڑے قبیلے، ہوازن اور ثقیف تھے۔ وہ ایک دوسرے کے حلیف تھے۔ فتح مکہ کے بعد ان قبائل نے اطاعت قبول نہیں کی بلکہ انھوں نے مسلمانوں کے خلاف جارحیت کا منصوبہ بنایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی تو آپ مکہ سے چل کر حنین پہنچے۔ یہاں قبیلہ ہوازن کے ساتھ آپ کا مقابلہ ہوا۔ یہ مقابلہ کھلے میدان میں تھا۔ اس مقابلہ میں آخر کار مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی۔ اس کے فورا بعد آپ نے قبیلہ ثقیف پر چڑھائی کی مگر یہاں صورت یہ تھی کہ قبیلہ ثقیف طائف میں رہتا تھا۔ جو مکمل طور پر حصار میں تھا۔ شہر طائف کے چاروں طرف پتھر کی اونچی اونچی دیواریں کھڑی ہوئی تھیں۔ مسلمانوں کے لیے براہ راست مقابلہ میں یہ دیواریں حائل ہوگئیں۔ قبیلہ ثقیف کے لوگ دیواروں کے اوپر مورچہ سنبھالے ہوئے تھے اور مسلمان دیوار کے نیچے میدان میں تھے۔ ثقیف والوں نے مسلمانوں پر تیر برسائے مسلمان اس کے باوجود دیوار تک پہنچ گئے۔ تو انھوں نے اوپر سے گرم کیا ہوا لوہا گرانا شروع کیا اس کی وجہ سے بہت سے مسلمان شہید ہوگئے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلم فوجوں کو واپسی کا حکم دے دیا۔

قبیلہ ہوازن سے مسلمانوں کا مقابلہ برابری کا مقابلہ تھا۔ اس لیے وہاں پورا مقابلہ کیا گیا۔ اس

‹ Previous page Next page › Contents of January 1986 All issues

Printed page