Al-Risala · August 1986 · page 11

الٹا نتیجہ

الرسالہ، اگست ۱۹۸۶، صفحہ ۱۱

اسلامی خلافت تمہید اسلام میں کچھ چیزیں مقصد ہیں اور کچھ چیزوں کی حیثیت ذمہ داری کی ہے۔ مثلاً خدا کا شکر ایک مقصدی نوعیت کی چیز ہے ۔ یہ وہ چیز ہے جو ہر آدمی سے مقصد کے درجہ میں مطلوب ہے۔ ہر آدمی کو لازمی طور پر شکر گزار بننا ہے۔ اس کے برعکس مال کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ مالی احکام اس وقت شروع ہوتے ہیں جب کہ آدمی مال دار ہو چکا ہو۔ جو شخص مال دار نہ ہو اس کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ ضرور اپنے آپ کو مال دار بنائے اور مال کے بارے میں جو اسلامی احکام ہیں ان کی تعمیل کرے ۔

یہی وجہ ہے کہ دونوں کے لیے قرآن میں ایک دوسرے سے مختلف الفاظ استعمال کیے گیے ہیں۔ شکر کے لیے قرآن میں یہ لفظ ہے کہ بل الله فاعبد وكن من الشاکرین (الزمر ۶۶) جب کہ مال کے لیے یہ نہیں فرمایا کہ مال دار بنو۔ بلکہ یہاں اس قسم کے الفاظ ہیں : ومما رزقناهم ينفقون (البقره (۳) یعنی پہلے معاملہ میں فرمایا کہ شکر گزار بنو۔ اور دوسرے معاملہ میں فرمایا کہ ہم نے ان کو جو مال دیا ہے اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں ۔ گویا شکر گزار تو آدمی کو ہر حال میں بننا ہے ، جب کہ مال کے احکام کی تعمیل اس وقت کرنی ہے جب کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو مال دے دیا گیا ہو ۔ سیاست و حکومت کی حیثیت بھی اسلام میں مقصد کی نہیں بلکہ ذمہ داری کی ہے۔ یعنی سیاست و حکومت وہ چیز نہیں کہ ہر آدمی اس کو اپنا نشانہ بن کہ اس کے لیے جدوجہد کرے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا عطیہ ہے اللہ تعالیٰ خود اپنی مصلحتوں کے تحت کبھی کسی کو زمین میں با اقتدار بنا دیتا ہے اور کبھی کسی کو ۔ اور جب کسی شخص یا قوم کو یہ عطیہ ملے تو اس وقت اس پر لازم ہو جاتا ہے کہ وہ اقتدار کو ان احکام کے مطابق استعمال کرے جو خدا نے اس کے لیے مقرر کر دیے ہیں ۔

یہی وجہ ہے کہ قرآن میں سیاست و حکومت کے لیے جو الفاظ آئے ہیں وہ اس سے مختلف ہیں جو مقصدی نوعیت کے احکام کے لیے استعمال کیے گیے ہیں۔ مثلاً عبادت کے لیے قرآن میں یہ الفاظ ہیں کہ واعبد ربك حتى يأتيك اليقين ( اپنے رب کی عبادت کرو موت کے آنے تک ) ، دوسری طرف سیاست و حکومت کے لیے اس قسم کے الفاظ آئے ہیں : الذين ان مكناهم في الارض اقاموا

‹ Previous page Next page › Contents of August 1986 All issues

Printed page