Al-Risala · August 1986 · page 12

نظریۂ سیاست کا ماخذ

الرسالہ، اگست ۱۹۸۶، صفحہ ۱۲

الصلوة واتوالزكوة وا امروا بالمحروف وانھوا عن المنکر وہ لوگ کہ اگر ہم ان کو زمین میں حکومت دیں تو وہ نماز قائم کریں گے اور زکوٰۃ ادا کریں گے اور معروف کا حکم دیں گے اور منکر سے روکیں گے ) الحج ۴۱ حکومت کا ذکر " اگر " کے لفظ کے ساتھ ہے اور عبادت کا ذکر " اگر " کے بغیر ہے۔ دونوں کی نوعیت میں یہ فرق نہ ہوتا تو عبادت کے لیے بھی اسی قسم کے الفاظ آتے کہ ــــ اگر ہم انہیں مسجد دیدیتے ہیں تو وہ ہماری عبادت کرتے ہیں۔

نظریۂ سیاست کا ماخذ

سیاست کا ماخذ قرآن میں کیا ہے ، اس کا جواب اکثر مسلم مفکرین نے یہ دیا ہے کہ اسلام کے نظریہ سیاست کا ماخذ قرآن کی وہ آیت ہے جس میں انسان اول ( آدم ) کے " خلیفہ " ہونے کا ذکر ہے۔ یعنی اسلامی سیاست اسلامی خلافت کا دوسرا نام ہے۔ خلافت کی یہ آیت قرآن میں ان الفاظ میں آئی ہے : واذ قال ربّک للملائكة انّی جاعل اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں في الارض خليفة قالوا اتجعل فيها ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ فرشتوں نے کہا کہ کیا من يفسد فيها ويسفك الدماء ونحن تو زمین میں اس کو بنائے گا جو فساد کرے اور خون نسبح بحمدك ونقدس لك وقال بہائے ، اور ہم حمد کے ساتھ تیری تسبیح کرتے ہیں انّی اعلم مالا تعلمون (البقره ۳۰) اور تیری تقدیس کرتے ہیں۔ خدا نے کہا کہ میں اس بات کو جانتا ہوں جس کو تم نہیں جانتے ۔

خلیفہ کا لفظ فعيلہ کے وزن پر ہے۔ فقیلہ کے معنی وہی ہیں جو فاعلہ کے ہیں۔ یہ اس میں مبالغہ کے لیے بڑھا دی گئی ہے۔ یہی معاملہ خلیفہ کا بھی ہے ( تفسیر النسفی ) خَلَفَ يَخْلُف کے معنی عربی زبان میں ہیں : پیچھے آنا ، جانشین ہونا ، قائم مقام ہونا۔ قرآن میں ہے : فخلف من بعدهم خلف ( الاعراف ۱۶۹ ) یعنی پھر ان کے بعد ایسے لوگ ان کے جانشین ہوئے جو ........ اسی سے خلیفہ ہے۔ خلیفہ کے معنی ہیں جو کسی کی جگہ پر اس کے بعد آئے (من يخلف غيره) خلیفہ کے وہی معنی ہیں جو جانشین (Successor) کے ہیں۔ خلیفہ کا ترجمہ بعض لوگوں نے نائب (Vicegerent) کیا ہے ۔ مگر یہ ترجمہ لغت کے اعتبار

‹ Previous page Next page › Contents of August 1986 All issues

Printed page