Al-Risala · August 1986 · page 13

نظریۂ سیاست کا ماخذ

الرسالہ، اگست ۱۹۸۶، صفحہ ۱۳

سے صحیح نہیں ۔ استعمال عرب میں خلیفہ جانشین کے مفہوم میں آتا ہے۔ نائب کے مفہوم کے لیے کلام عرب میں کوئی نظیر موجود نہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ انسان اگر خلیفہ (جانشین) ہے تو وہ کسی کا خلیفہ ہے۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ اللہ کا خلیفہ (خلیفۃ اللہ) ہے۔ مگر اس کا براہ راست ثبوت قرآن میں موجود نہیں ۔ سورہ بقرہ کی مذکورہ آیت میں جو لفظ ہے وہ " ایک خلیفہ " ہے نہ کہ " خدا کا خلیفہ " اس کے علاوہ قرآن میں دوسری کوئی ایسی آیت موجود نہیں جس میں انسان کو خلیفۃ اللہ کہا گیا ہو۔ اسی طرح احادیث کے ذخیرہ میں بھی کوئی صحیح حدیث ایسی نہیں ملتی جس میں صراحتاً انسان کے بارے میں خلیفۃ اللہ کا لفظ استعمال کیا گیا ہو۔ قرآن اور حدیث میں انسان کے لیے عباد اللہ اور عبد اللہ کے الفاظ تو آئے ہیں مگر خلیفۃ الثریا خلافت اللہ کا لفظ کہیں بھی نہیں آیا۔ انسان اگر خلیفۃ اللہ ہو تو یہ اس کے بارے میں اہم ترین بات ہوگی ۔ یہ ناقابل تصور بات ہے کہ اتنی اہم بات قرآن وحدیث میں غیر مذکور رہ جائے۔

نیز معنی کے اعتبار سے بھی یہ ایک مضحکہ خیز تاویل ہے۔ کیوں کہ یہ ناقابل تصور ہے کہ انسان خدا کا جانشین ہو۔ اسی مشکل سے بچنے کے لیے مذکورہ حضرات نے خلیفہ کا ترجمہ جانشین کے بجائے نائب کیا ہے۔ مگر یہ ایک غلطی پر دوسری غلطی کا اضافہ ہے۔ کیوں کہ کلام عرب میں خلیفہ کا لفظ نائب کے لیے سرے سے نہیں آتا ۔

حقیقت یہ ہے کہ انسان مخلوقات کا خلیفہ (جانشین) ہے نہ کہ خالق کا خلیفہ ۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین بنائی اور اس کے بعد اس پر جنوں کو آباد کیا ۔ آدم کی تخلیق سے پہلے یہی جن زمین کے باشندے تھے۔ پھر جنوں نے زمین پر فساد کیا ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے اقتدار سے ہٹا دیا۔ اس کے بعد آدم پیدا کیے گیے اور وہ زمین پر جن کی جگہ بسائے گیے ۔ اس طرح آدم خلیفہ الجن تھے نہ کہ خلیفۃ اللہ ۔ وہ زمین پر جن کے بعد آئے نہ کہ نعوذ باللہ خدا کے بعد ۔ ایک قوم کے بعد دوسری قوم حضرت آدم کے بعد ان کی جو نسلیں زمین پر ایک کے بعد ایک آباد ہوئیں ان کو بھی قرآن میں خلیفہ یا خلفاء کہا گیا ہے۔ یہ نسلیں یا قومیں بھی خدا کی خلیفہ نہ تھیں بلکہ وہ ان پچھلی قوموں کی خلیفہ تھیں جن کے بعد وہ آئیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1986 All issues

Printed page