نظریۂ سیاست کا ماخذ
الرسالہ، اگست ۱۹۸۶، صفحہ ۱۴
سورہ الاعراف ( رکوع ۱۰ ۔ ۹ ) میں پچھلی قوموں کا ذکر ہے ۔ اس میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ نے قوم نوح کے بعد قوم عاد کو خلفاء بنایا ۔ اذ جعلکم خلفاء من بعد قوم نوح ) پھر قوم عاد کے بعد قوم ثمود کو خلفاء بنایا اور اس کو زمین میں ٹھکانا ( اذ جعلکم خلفاء من بعد عاد و بو آکم فی الارض ) اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قوم نوح کی ہلاکت کے بعد جب قوم عاد اس کی جگہ آباد کی گئی تو وہ قوم نوح کی خلیفہ ( جانشین ) تھی ۔ اسی طرح قوم عاد کو ہٹا کر جب قوم ثمود کو زمین پر بسنے اور فائدہ اٹھانے کا موقع دیا گیا تو وہ گویا قوم عاد کی خلیفہ ( جانشین ) تھی ۔ اسی طرح قدیم ماضی سے لے کر اب تک ایک قوم کے بعد دوسری قوم ابھرتی ہے اور ہر اگلی قوم اپنی پچھلی قوم کی خلیفہ ( جانشین ) ہوتی ہے ۔ خلافت ایک کے بعد دوسرے کے آنے کا نام ہے ۔ خلافت کا لفظ دراصل خدا کے مقرر کیے ہوئے اصول تاریخ کو بتاتا ہے نہ کہ خدا کی نیابت یا خدا کی جانشینی کو ۔ خلافت کا یہ سلسلہ زمین پر برابر جاری ہے ۔ بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک قوم آتی ہے اور وہ اپنا امتحان دے کر ختم ہو جاتی ہے یا پیچھے ہٹا جاتی ہے ۔ اور پھر دوسری قوم پچھلی قوم کی خلیفہ ( جانشین ) بنائی جاتی ہے ۔
اس طرح دنیا میں ایک کے بعد دوسری قوم کو کام کرنے کا موقع دیا جا رہا ہے ۔ مثلاً ہندوستان میں مغل حکمراں سابق دیسی راجاؤں کے خلفا ء تھے ۔ اس کے بعد انگریز مغلوں کے خلفاء ہوئے ۔ اور اب موجودہ ملکی حکمراں انگریزوں کے خلفار ہیں ۔ وقس علیٰ ھذا ۔
قرآن میں واضح طور پر حضرت داؤد علیہ السلام کے لیے خلیفہ کا لفظ آیا ہے ۔ حضرت داؤد علیہ السلام کس کے خلیفہ تھے ۔ اس سلسلہ میں مفسرین نے اس کو پچھلے پیغمبروں کی خلافت کے معنی میں لیا ہے ۔ اس اعتبار سے گویا حضرت داؤد خلیفۃ الانبیا ءتھے نہ کہ خلیفۃ اللہ ( تفسیر نسفی ) یعنی وہ بنی اسرائیل کے پچھلے نبیوں کے بعد ان کی جگہ آئے اور خدا کی طرف سے عائد کی ہوئی ذمہ داریوں کو ادا کیا ۔ خلیفہ کا لفظ انسان کی منصبی حیثیت کو نہیں بتاتا ۔ وہ صرف زمین پر انسان کی آباد کاری کی تاریخی نوعیت کو بتاتا ہے ۔ یعنی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان زمین کے اوپر خدا کا نائب ہے اور اسے زمین پر وہ خدائی بادشاہی قائم کرنی ہے جو بقیہ کائنات میں خدا خود براہ راست قائم کیے ہوئے ہے ۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ زمین پر مختلف اشخاص اور مختلف قوموں کو ایک کے بعد ایک کام کرنے کا موقع دیا جاتا ہے یہ لفظ مخلوقات کے بارے میں اصولی جانشینی کو بتاتا ہے نہ کہ خدا کے بارہ میں اصول نیابت کو ۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1986 All issues