Al-Risala · August 1986 · page 15

خلافت ایک خدائی عطیہ

الرسالہ، اگست ۱۹۸۶، صفحہ ۱۵

خلافت ایک خدائی عطیہ

قرآن کے مطابق خلافت خدا کا ایک عطیہ ہے۔ قرآن میں واضح طور پر ارشاد ہوا ہے کہ کہو کہ اے اللہ ملک کے مالک ، تو جس کو چاہے ملک دے اور جس سے چاہے ملک لے لے۔ اور تو جس کو چاہے عزت دے اور جس کو چاہے ذلیل کر دے۔ بھلائی تیرے اختیار میں ہے۔ بے شک تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے (آل عمران ۲۶)

خلافت و حکومت جس کو بھی ملتی ہے خدا کی طرف سے ملتی ہے۔ خلیفہ بننے کا مطلب زمین میں تمکین واقتدار کا ملنا ہے۔ تمکین واقتدار سراسر خدا کا عطیہ ہے اور وہ عملاً خدا ہی کا عطیہ ہو سکتا ہے۔ تمکین واقتدار کسی کو خالی جزیرہ میں نہیں ملتا۔ یہ مختلف قوموں اور گروہوں کے بالمقابل ایک چیز کو پانے کا نام ہے۔

انسان کی قوت اس سے بہت کم ہے کہ وہ دوسروں کو بے دخل کر کے خود اقتدار پر قبضہ کر سکے۔ تمکین واقتدار کے حصول کے لیے اتنے زیادہ اسباب کی بیک وقت یکجائی درکار ہے کہ وہ تنہا کسی شخص یا قوم کے بس میں نہیں نہ یہ در اصل خدا ہے جو ایسے اسباب پیدا کرتا ہے جو ایک قوم کو تمکین و اقتدار کے مقام سے ہٹائیں اور اس کی جگہ دوسری قوم کو تمکین واقتدار کا مقام عطا کریں۔ خلافت و حکومت کو عطا کرنے کا یہ فیصلہ خدا کی مختلف مصلحتوں کے تحت ہوتا ہے۔ قرآن میں ان کی بابت اشارات ملتے ہیں۔

مثلاً اس سلسلے میں ایک مصلحت امتحان ہے۔ یعنی ایک قوم کو ہٹا کر اس کی جگہ دوسری قوم کو اختیار دینا تا کہ خدا دیکھے کہ وہ کس طرح عمل کرتی ہے ( ثم جعلنكم خلائف فى الارض من بعدهم لننظر كيف تعملون ، يونس ۱۴)، دوسری مصلحت یہ ہے کہ کسی قوم کی صالحیت کی بنا پر اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ احسان کا فیصلہ کرے اور اس بنا پر اس کو زمین کا اقتدار دیدے ( ونريد ان نمن على الذين استضعفوا في الارض ونجعلهم ائمة ونجعلهم الوارثين ، القصص ۵)، اسی طرح ایک مصلحت یہ ہے کہ زمین کو فساد سے بچانے کے لیے اللہ تعالیٰ ایسا کرے کہ وہ ایک قوم کے ذریعہ دوسری قوم کو میدانِ عمل سے ہٹادے ( ولو لا دفع الله الناس بعضهم ببعض لفسدت الارض البقره (۲۵۱) وغیرہ ۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1986 All issues

Printed page