خلافت کے فرائض
الرسالہ، اگست ۱۹۸۶، صفحہ ۱۶
خلافت کے فرائض
خلیفہ کے فرائض کیا ہیں ، اس کے بارہ میں قرآن کی حسب ذیل آیت واضح رہنمائی کرتی ہے: ياداؤد انا جعلنك خليفة فى الارض فاحكم بين الناس بالحق ولا تتبع الهوى فيضلك عن سبيل الله ۔ انَّ الذين يضلون عن سبيل الله لهم عذاب شديد بما نسوا يوم الحساب (ص ۲۶)
اس آیت میں تین باتیں کہی گئی ہیں ۔
اے داؤد، ہم نے تم کو زمین میں خلیفہ بنا یا ہے۔ پس تم لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرو اور خواہش کی پیروی نہ کرو ورنہ وہ تم کو اللہ کے راستہ سے بھٹکا دے گی ۔ بے شک جو لوگ اللہ کے راستہ سے بھٹکتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے اس وجہ سے کہ وہ روز حساب کو بھولے رہے ۔ انصاف کے مطابق فیصلہ کرنا، خواہش نفس کی اس آیت میں تین باتیں یہی کی ہیں ۔ انصاف کے مطابق فیصلہ کرنا، ہوا، ہوس کی پیروی نہ کرنا ، اور حساب کے دن سے ڈرتے رہنا ۔ مختصر لفظوں میں یہی وہ معیار ہے جس پر جانچ کر معلوم کیا جا سکتا ہے کہ کون شخص صحیح اسلامی خلیفہ ہے اور کون شخص صحیح اسلامی خلیفہ نہیں۔ صحیح اسلامی خلیفہ وہ ہے جس کے دل میں یہ ڈر سمایا ہوا ہو کہ اس کو اپنے ہر قول اور فعل کا حساب خدا کو دینا ہے ۔ ایسا شخص اپنی رائے اور خواہش پر نہیں چلے گا بلکہ ہر معاملے میں وہ خدا کی مرضی کو جاننا چاہے گا اور جیسے ہی اس کو خدا کی ثابت شدہ مرضی معلوم ہوگی وہ فوراً اس کو پکڑ لے گا۔ کیوں کہ اس کا ذہن یہ کہے گا کہ اسی کو اختیار کر کے میں آخرت میں اللہ کی پکڑ سے بچ سکتا ہوں ۔
یہی چیز ہے جو کسی حکمران کو خلیفہ حق بناتی ہے ۔ اس کا ہر فیصلہ انصاف کا فیصلہ ہوتا ہے اور اس کا ہر اقدام وہ صحیح اقدام ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے ۔ حضرت عمر فاروقؓ کا ایک واقعہ اسلامی خلافت کی نوعیت کو خوبی کے ساتھ واضح کرتی ہے : عن عمر بن الخطاب انه سأل طلحة والزبير وكعبا و سلمان : ما الخليفة من الملک ، فقال طلحة والزبيرماندری فقال سلمان : الخليفة الذي يَعْدِل حضرت عمر فاروق ؓ نے ایک بار حضرات طلحہ اور زبیر اور کعب اور سلمان سے سوال کیا کہ بادشاہ کے مقابلہ میں خلیفہ کون ہے ۔ طلحہ اور زبیر نے کہا کہ ہم کو نہیں معلوم ۔ حضرت سلمان نے کہا کہ
‹ Previous page Next page › Contents of August 1986 All issues