Al-Risala · August 1986 · page 18

جھوٹا نظریہ

الرسالہ، اگست ۱۹۸۶، صفحہ ۱۸

جھوٹا نظریہ

موجودہ زمانہ کے ایک مفسر قرآن سورۃ محمد (آیت ۳۵) کے تحت اپنے تفسیری حاشیہ میں لکھتے ہیں : ” یہ ارشاد اس زمانہ میں فرمایا گیا ہے جب صرف مدینہ کی چھوٹی سی بستی میں چند سو مہاجرین وانصار کی ایک مٹھی بھر جمعیت اسلام کی علم برداری کر رہی تھی اور اس کا مقابلہ محض قریش کے طاقتور قبیلہ ہی سے نہیں ، بلکہ پورے ملک عرب کے کفار و مشرکین سے تھا۔ اس حالت میں فرمایا جا رہا ہے کہ ہمت ہار کر ان دشمنوں سے صلح کی درخواست نہ کرنے لگو، بلکہ سر دھڑ کی بازی لگا دینے کے لیے تیار ہو جاؤ۔ اس ارشاد کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مسلمانوں کو کبھی صلح کی بات چیت کرنی ہی نہ چاہیے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسی حالت میں صلح کی سلسلہ جنبانی کرنا درست نہیں ہے جب اس کے معنی اپنی کمزوری کے اظہار کے ہوں اور اس سے دشمن اور زیادہ دلیر ہو جائیں۔ مسلمانوں کو پہلے اپنی طاقت کا لوہا منوا لینا چاہیے، اس کے بعد وہ صلح کی بات چیت کریں تو مضائقہ نہیں “۔

یہ نظریہ سراسر ناقابل عمل ہے اور اسی کے ساتھ غیر اسلامی بھی۔ مسلمان اگر صرف ” مٹھی بھر “ ہیں اور فریق ثانی عظیم طاقت کی حیثیت رکھتا ہے تو کیسے ممکن ہے کہ وہ فریق ثانی سے لڑ کر اس سے اپنی طاقت کا لوہا منوالیں ۔ ایسی حالت میں فریق ثانی سے لڑنا اس کو مزید دلیر کرنے کے ہم معنی ہوگا۔ کیوں کہ اس عالم اسباب میں ایسے غیر متناسب مقابلہ کا نتیجہ لازمی طور پر شکست ہوتا ہے۔ اور شکست کا لازمی نتیجہ دشمن کو پہلے سے زیادہ دلیر بنا دینا۔

مکہ کے زمانہ قیام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے دشمنوں نے ستایا۔ مگر آپ نے یہ نہیں کیا کہ ” سر دھڑ کی بازی لگا کر “ ان سے ٹکرا جائیں بلکہ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ مکہ چھوڑ کر مدینہ چلے گیے۔ اسی طرح حدیبیہ کے موقع پر آپ کے مخالفین نے آپ سے غیر واجبی مطالبات کیے مگر آپ نے ان کے تمام مطالبات کو یک طرفہ طور پر مان کر ان سے صلح کر لی۔ مذکورہ تفسیر کو صحیح مانا جائے تو آپ کا یہ دونوں عمل دشمنوں کو دلیر کرنے کے ہم معنی قرار پائے گا ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ نظریہ سراسر غلط ہے۔ جنگ ہو یا صلح دونوں سوچے سمجھے فیصلہ پر مبنی ہونا چاہیے اور یہ فیصلہ حالات کے تحت کیا جانا چاہیے نہ کہ مذکورہ بالا قسم کے کسی پر جوش نظریہ کے تحت ۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1986 All issues

Printed page