Al-Risala · August 1986 · page 19

حج کا عاطفی پہلو

الرسالہ، اگست ۱۹۸۶، صفحہ ۱۹

حج کا عاطفی پہلو

قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں (الذاریات ٥٦) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی عبادت کا جذبہ انسان کے اندر تخلیقی طور پر شامل ہے ۔ انسان کو نہ صرف یہ کہ از روئے واقعہ خدا کی عبادت کرنا چاہیے بلکہ اس کی فطرت کا مطالبہ بھی یہی ہے کہ وہ ایسا کرے ۔ خدا کی عبادت خود انسان کی اپنی فطرت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خدا کی عبادت کے سوا کوئی چیز انسان کو حقیقی طور پر مطمئن نہیں کرتی : الا بذكر الله تطمئن القلوب سن لو کہ اللہ کی یاد ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے )

جس طرح ایک چھوٹا بچہ عین اپنے اندرونی جذبہ کے تحت مجبور ہے کہ وہ اپنی ماں کی طرف لپکے۔ اسی طرح انسان عین اپنی اندرونی پکار کی بنا پر مجبور ہے کہ وہ خدا کی طرف دوڑے ۔ انسان اپنی اندرونی شخصیت کو بدل نہیں سکتا۔ اس لیے وہ خدا کو بھی اپنے دل و دماغ سے نکال نہیں سکتا۔ علم الانسان کی شہادت یہ حقیقت موجودہ زمانہ میں لسانیات (Anthropology) کے ذریعہ علمی طور پر ثابت ہو گئی ہے موجودہ زمانہ میں علم الانسان کے ماہرین نے انسانی معاشرہ کا گہرائی کے ساتھ جائزہ لیا ہے۔ تاریخ کے ابتدائی دور سے لے کر اب تک کے انسانی معاشروں کا مطالعہ کرنے کے بعد جو حقیقتیں سامنے آئی ہیں ان میں سے ایک اہم ترین حقیقت یہ ہے کہ ہر قسم کے اُتار چڑھاؤ کے باوجود انسان ہمیشہ خدا کا پرستار رہا ہے۔ خدا اور مذہب کا جذبہ انسان کی فطرت میں اس طرح پیوست ہے کہ وہ کسی حال میں اس سے جدا نہیں ہوتا۔ اس سلسلہ میں علم الانسان کی تحقیقات کا خلاصہ ہم انسائیکلو پیڈیا امریکا ناکہ الفاظ میں نقل کرتے ہیں :

‹ Previous page Next page › Contents of August 1986 All issues

Printed page