Al-Risala · August 1986 · page 20

حج کا عاطفی پہلو

الرسالہ، اگست ۱۹۸۶، صفحہ ۲۰

From the earliest days of the world's history man has been more or less a religious creature. Almost invariably he has had a god, or several of them, to whom he looked for protection. At times these gods have been crude fetishes of whittled wood or roughly hewn stone; at times they have assumed the form of animals or reptiles, or have appeared as cruel monsters eager for the life-blood of those who reverenced them. But, however they may have come, man has worshipped them, because religion, as represented in the worship of a super-natural power, is interwoven with the entire fabric of human nature. Encyclopedia Americana, 1961, V. XXIII, p 354 دنیا کی تاریخ کے بالکل ابتدائی دنوں سے انسان کم و بیش ایک مذہبی مخلوق رہا ہے۔ تقریباً ہر زمانے میں وہ ایک خدا رکھتا تھا یا کئی خدا، جس کی طرف وہ بچاؤ کے لیے دیکھ سکے ۔ کبھی یہ خدا لکڑی کے بنے ہوئے ہوتے تھے ۔ کبھی پتھر کے ۔ کبھی جانوروں اور سانپوں کو خدا سمجھ لیا گیا ، وغیرہ ۔ مگر ہر حال میں وہ سمجھتے اور انسان ضروری سمجھتا تھا کہ وہ ان کی پوجا کرے ۔ کیوں کہ مذہب ، ایک مافوق طاقت کی پرستش کی صورت میں، انسان کی فطرت کے پورے ڈھانچے میں گندھا ہوا ہے ۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ خدا کا شعور انسان کی فطرت میں تخلیقی طور پر پیوست ہے ۔ تا ہم یہ شعور مجمل انداز میں ہے ۔ اس لیے انسان ایسا کرتا ہے کہ جب وہ حقیقی خدا کو نہیں پاتا تو مصنوعی طور پر وہ خود ساختہ خداؤں کی پرستش کرنے لگتا ہے ۔ فطرت کے زور پر اس کے اندر پرستش کا جذبہ ابھرتا ہے ۔ اگر اس کے سامنے پیغمبر کی رہنمائی ہو تو اس کا یہ جذ بہ خدائے وحدہ لاشریک کی صورت میں اس کا جواب پالے گا ۔ اور اگر پیغمبر کی رہنمائی اس کے سامنے نہ ہو تو وہ اپنے جذبہ کی مصنوعی تسکین کے لیے غیر خداؤں کو خدا فرض کر کے ان کو پوجنے لگے لگا ۔

انسان کا مقصود اصلی صرف ایک ہے اور وہ وہی ہے جو اس کا خالق و مالک ہے۔ یہ مقصود اس کی فطرت میں گہرائی کے ساتھ شامل ہے ۔ انسان یکسو ہو کر اپنی فطرت پر کان لگائے تو وہ خود اپنے اندر خدا کو پالے گا ۔ وہ اس کو اپنے دل کی دھڑکنوں میں محسوس کرے گا ۔ یہ فطرت گویا انسان کا " لاشعور " ہے ۔ پیغمبر اسی لاشعور کو شعور کا درجہ عطا کرتا ہے ۔ تا ہم انسان جیسی ایک مخلوق کے لیے صرف یہ غیبی معرفت کافی نہیں ۔ انسان چاہتا ہے کہ وہ خدا کو محسوس طور پر بھی پائے ۔ وہ خدا کا محسوس ادراک کر سکے ۔ مگر یہاں یہ رکاوٹ ہے کہ خدا کا

‹ Previous page Next page › Contents of August 1986 All issues

Printed page