Al-Risala · August 1986 · page 35

بالبیت عریان

الرسالہ، اگست ۱۹۸۶، صفحہ ۳۵

بالبیت عریان

تفسیر ابن کثیر، الجزء الثانی ، صفحه ۳۳۴ کہ دوکہ کا فرجنت میں نہیں جائے گا ۔ اور اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا اور کوئی شخص عریاں ہوکر کعبہ کا طواف نہیں کرنے پائے گا۔

حضرت علی کہتے ہیں کہ میں مکہ گیا اور مجمع عام میں گھوم گھوم کر با آواز بلند اس کا اعلان کرتا رہا یہاں تک کہ میری آواز بیٹھ گئی ( قال فكنت انادی حتى صحل صوتی ) مشرکین عرب سے برارت کا حکم مدینہ میں اترا مگر اس کا اعلان مکہ میں موسم حج میں کیا گیا یہ واضح طور پر اس کا ثبوت ہے کہ اسلام کے تمام اہم فیصلوں کے اعلان کا اصل مقام مکہ اور زمانہ حج ہے ۔ حج تمام دنیا کے مسلمانوں کا اجتماعی مرکز ہے ۔ یہیں ان کو جمع ہونا ہے ۔ یہیں انھیں اپنے بڑے بڑے فیصلوں کا اعلان کرنا ہے ۔ اور یہیں سے وہ عالمی منصوبہ بندی کرنی ہے جو خدا اور رسول کے حکم کے مطابق ان کے لیے ضروری ہو۔

صروری ہو ۔

میاں بیوی کے ساتھ اچھا سلوک کر نا چاہیے اس سلسلہ میں دوسری نمایاں مثال حجۃ الوداع کے خطابہ کی ہے۔ یہ آپ کا اہم ترین خطب ہے ۔ آپ اپنی وفات سے پہلے آخری طور پر لوگوں کو بتا دینا چاہتے تھے کہ دین کے بنیادی تقاضے کیا ہیں ۔ مگر ان کا اعلان آپ نے کہیں اور نہیں کیا بلکہ اس کو موخر کرتے رہے ۔ یہاں تک کہ نہ میں حج کے موقع پر ان کا اعلان فرمایا ۔ چنانچہ خطبہ کے شروع میں یہ الفاظ آئے ہیں : ... پ...ر... ياايها الناس اسمعوا قولى فانى لا ادرى لعلى لا القاكم بعد عامى هذا بهذا الموقف ابداً سيرة ابن هشام ، الجزء الرابع ، صفحه ۲۷۵ اس کے بعد آپ نے تمام منادی باتیں لوگوں کو سنائیس ے، اے لوگو، میری بات سنو۔ کیوں کہ میں نہیں جانتا که شاید میں اس سال کے بعد تم سے اس مقام پر کبھی نہ ملوں۔

اور آخر میں فرمایا : الاها بلغت الاهای اس کے بعد آپ نے تمام بنیادی باتیں لوگوں کو بتائیں اور آخر میں فرمایا: الاھل بلغت الاھل بدعت (کیا میں نے پہنچا دیا، کیا میں نے پہنچا دیا) لوگوں نے گواہی دی کہ ہاں ، آپ نے پہونچا دیا۔

فتح مکہ (۵ھ) کے بعد پورا عرب آپ کے لیے مسخر ہو چکا تھا۔ آپ عرب کے کسی بھی مقام پر پہونچ کر کلاں (جسم) سا یہ جدید تجرب اب صوفیانہ غزل میں تربیت اخلاق کا پہلو نمایاں ہے

‹ Previous page Next page › Contents of August 1986 All issues

Printed page