Al-Risala · August 1986 · page 36

فطری انداز

الرسالہ، اگست ۱۹۸۶، صفحہ ۳۶

اعلان کر سکتے تھے ۔ اس وقت مدینہ اسلام کا سیاسی مرکز تھا۔ آپ یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ لوگوں کو مدینہ میں بلائیں اور وہاں لوگوں کے سامنے ان باتوں کا اعلان کریں جن کا اعلان آپ نے خطبہ حجۃ الوداع میں فرمایا مگر آپ نے ان میں سے کوئی طریقہ اختیار نہیں فرمایا۔ بلکہ حج کا انتظار کیا اور حج کے موقع پر مکہ پہنچ کر ان کا اعلان کیا۔ آپ کی یہ سنت اس کا واضح ثبوت ہے کہ حج اسلام کی تمام اہم باتوں کا مقام اعلان ہے ۔

فطری انداز

اس اہتمام کی ایک وجہ یہ ہے کہ اسلام ہمیشہ سادہ اور فطری طریقہ کو پسند کرتا ہے ۔ مثلاً حج کے اعمال میں سے ایک عمل یہ ہے کہ صفا اور مروہ (پہاڑیوں) کے درمیان سعی کی جائے ۔ اس سلسلہ میں ایک سوال یہ ترتیب کا تھا ۔ یعنی یہ کہ سعی کا عمل صفا کی طرف سے شروع کیا جائے یا مروہ کی طرف سے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے موقع پر یہ عمل کیا تو فرمایا : ابدأ بما بدأ الله بہ (میں اس سے شروع کرتا ہوں جس سے اللہ نے شروع کیا)

اس سے آپ کا اشارہ قرآن کی اس آیت کی طرف تھا : ان الصفا والمروة من شعائر اللہ (البقرہ ۱۵۸) یہ وہ آیت ہے جس میں حاجی کو صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ اس آیت کی ترتیب بیان یہ ہے کہ اس میں صفا کا لفظ پہلے ہے اور مروہ کا لفظ اس کے بعد ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ترتیب بیان ہی کو ترتیب عمل بھی بنا لو ۔ تا کہ ایک ترتیب کا یاد رکھنا دوسری ترتیب کے لیے کافی ہو جائے ۔ دو ترتیب الگ الگ یا د رکھنی نہ پڑے ۔

حج کو مقام اعلان بنانے میں بھی یہی فطری حکمت ہے ۔ حج کی عبادت کو ادا کرنے کے لیے تمام دنیا کے مسلمان ہر سال ایک جگہ جمع ہوتے ہیں اور ہمیشہ جمع ہوتے رہیں گے ۔ اس لیے اللہ نے اسی کو اجتماعی اعلان کا مقام بنا دیا۔ تاکہ ایک ہی اجتماع دونوں مقصد کے حصول کے لیے کافی ہو جائے ۔ حج کے موقع پر اجتماعی اعلان کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس طرح اس کو ایک مقدس حیثیت حاصل ہو جاتی ہے ۔ حج کا مقام مسلمانوں کا انتہائی مقدس مقام ہے، اس لیے جو اعلان حج کے مقام پر کیا جائے وہ بھی اپنے آپ لوگوں کی نظر میں مقدس اور محترم بن جائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1986 All issues

Printed page